عثمانیہ ہاسپٹل میں جگر کا ٹیومر نکالنے کامیاب لپرااسکوپی سرجری

   

حیدرآباد22فروری(یواین آئی) تلنگانہ کے سرکاری ہاسپٹل میں پہلی مرتبہ نایاب سرجری کی گئی۔ تفصیلات کے مطابق عثمانیہ اسپتال کے سرجنس کی ٹیم نے ایک بڑے ٹیومرکو نکالنے کیلئے لپرااسکوپی طریقہ کے ذریعہ کامیاب پیچیدہ سرجری کی۔ ہاسپٹل کے سرجنس نے 31سالہ خاتون ایم وانی، ساکن حیدرآباد کی یہ سرجری انجام دی۔ اس خاتون کے جگر میں ایک بڑا ٹیومر تھا۔اس کو سرجری کے لئے ہاسپٹل میں داخل کروایا گیا تھا۔ پرائیویٹ ہاسپٹل میں اس کا خرچ تقریبا 15لاکھ روپئے عائد ہوتا ہے، تاہم مالی مشکلات کے سبب وانی کو اس کے شوہر نے شہر کے اس قدیم سرکاری ہاسپٹل میں داخل کروایا تھا۔عثمانیہ ہاسپٹل کے ڈپارٹمنٹ آف سرجیکل گیسٹروانٹرولوجی کے صدرڈاکٹر سی ایچ مدھوسدن نے کہا کہ یہ ٹیومرخون کی شریان سے بنی ہے جس سے اندرونی طور پر خون کا اخراج ہورہا تھا اور اس سے دل کی حرکت کے بند ہونے کا بھی خدشہ لگارہتا ہے۔ ڈاکٹرسی ایچ مدھوسدن نے اس سرجری کی نگرانی کی۔انہوں نے کہاکہ اس طرح کی سرجری کافی پیچیدہ ہوتی ہے ۔یہ آپریشن چیلنج سے بھرا اور مشکل ہوتا ہے ۔ہندوستان میں اب تک ایسے چند ہی آپریشن کئے گئے اور پہلی مرتبہ ہندوستان میں کسی سرکاری ہاسپٹل میں اس پیچیدہ اور مشکل سرجری کو کامیابی کے ساتھ انجام دیا گیا۔ اس کے لئے کافی تجربہ کار بے ہوش کرنے والے ڈاکٹرس کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ مریض کو بے ہوش کرنے سے اس کے بلڈ پریشر، گردوں، دل اور پھیپھڑوں کی کارکردگی پر اثر پڑتا ہے ۔ یہ سرجری تقریبا 8گھنٹے تک جاری رہی جس کے ذریعہ ڈاکٹرس اس ٹیومر کو نکالنے میں کامیاب رہے ۔