عثمانیہ ہاسپٹل کی نئی عمارت کی تعمیر پر صورتحال غیر واضح

   

ہائی کورٹ میں حلف نامہ کی پیشکشی تک الجھن، گورنر کے دورہ کے بعد حکومت متحرک
حیدرآباد۔ 9 جولائی (سیاست نیوز) گورنر ڈاکٹر ٹی سوندرا راجن کی جانب سے عثمانیہ ہاسپٹل کی ابتر صورتحال پر حکومت کو توجہ دلانے کے بعد وزیر صحت ہریش راؤ نے عوامی نمائندوں اور اعلیٰ عہدیداوں کا اجلاس منعقد کرکے نئی عمارت کی تعمیر کیلئے ہائی کورٹ سے اجازت حاصل کرنے کا فیصلہ کیا۔ محکمہ صحت کے عہدیدار الجھن کا شکار ہیں کہ آیا نئی عمارت کھلی اراضی پر تعمیر کی جائے گی یا پھر موجودہ عمارت کو منہدم کرکے یہ وعدہ پورا کیا جائے گا۔ ہیریٹیج عمارت کے تحفظ کیلئے جہدکاروں نے تلنگانہ ہائی کورٹ میں درخواست داخل کی ہے جس پر انہدامی کارروائی کے فیصلے پر روک لگادی گئی۔ وزیر صحت کے اجلاس میں ضرورت پر موجودہ عمارت کو منہدم کرنے کا فیصلہ کیا گیا لیکن انہدام کیلئے عدالت سے اجازت کا حصول آسان نہیں ہے ۔ گورنر سوندرا راجن نے موجودہ عمارت کی تزئین نو اور متصل کھلی اراضی پر نئی عمارت کی تعمیر کی تجویز پیش کی ہے۔ حکومت کی جانب سے تلنگانہ ہائی کورٹ نے حلف نامہ کے ادخال کا کوئی وقت متعین نہیں ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ محکمہ صحت کو حلف نامہ کی تیاری کی ہدایت دی گئی ہے لیکن اس کیلئے کم از کم ایک ماہ درکار ہوگا۔ اب جبکہ مانسون کا آغاز ہوچکا ہے اور شدید بارش کی صورت میں عثمانیہ ہاسپٹل کی موجودہ عمارت کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔ اسی دوران عثمانیہ ہاسپٹل جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے نئی عمارت کی تعمیر کیلئے فوری اقدامات کرنے حکومت سے مطالبہ کیا۔ جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے ڈاکٹرس، پیرا میڈیکل اسٹاف، طلبہ اور نرسیس شامل ہیں۔ نئی عمارت کی تعمیر کے سلسلہ میں گزشتہ 8 برسوں سے حکومت کی بے حسی پر جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے افسوس کا اظہار کیا۔ 2015 میں چیف منسٹر کے سی آر نے عثمانیہ ہاسپٹل کا دورہ کرکے نئی عمارت کی تعمیر سے اتفاق کیا تھا۔ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے صدر نشین ڈاکٹر پانڈو نائک کے مطابق مریضوں کو بہتر سہولتوں کی فراہمی ڈاکٹرس کا بنیادی مقصد ہے۔ چیف منسٹر کے دورہ کے بعد ایکشن کمیٹی نے حکومت سے بارہا نمائندگی کی ہے۔ر