عثمانیہ یونیورسٹی جے اے سی قائدین کی گورنر ٹی سوندرا راجن سے ملاقات

,

   

بیروزگار نوجوانوں کے مسائل پر نمائندگی، مخلوعہ جائیدادوں پر فی الفور تقررات کا مطالبہ
حیدرآباد۔ 30 اکٹوبر (سیاست نیوز) عثمانیہ یونیورسٹی جے اے سی کے صدرنشین ایم بھاسکر اور صدر اے دتاتریہ نے جے اے سی کے دیگر قائدین کے ہمراہ گورنر ٹی سوندرا راجن سے ملاقات کی اور ریاست میں بیروزگار نوجوانوں کو درپیش مسائل سے واقف کرایا۔ وقف نے گورنر سے تقریباً دیڑھ گھنٹے تک بیروزگار نوجوانوں کے مسائل پر بات چیت کی اور ان سے تجاویز حاصل کی۔ تلنگانہ ریاست کی تشکیل میں طلبہ اور نوجوانوں کے رول کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے جے اے سی قائدین نے کہا کہ تحریک کے دوران نوجوانوں نے جانوں کی قربانی پیش کی اور جیل کی صعوبتوں کو برداشت کیا۔ علیحدہ تلنگانہ تحریک کے نعرے میں روزگار کو اہمیت کے ساتھ شامل کیا گیا تھا جس سے متاثر ہوکر نوجوانوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ انہیں امید تھی کہ نئی ریاست کے قیام کے بعد نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ گورنر کو بتایا گیا کہ تلنگانہ تحریک کے آغاز یعنی 2009ء سے آج تک ریاست میں مخلوعہ سرکاری جونیئر ڈگری کالج لیکچررس اور یونیورسٹی اساتذہ کی خالی جائیدادوں پر تقررات نہیں کئے گئے۔ نوجوان تقررات کے سلسلہ میں نوٹیفکیشن کا انتظار کررہے ہیں۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر رائو نے 2 جون 2014ء کو حلف لینے کے بعد ہر سال ایک اعلامیہ جاری کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن اس وعدے پر عمل نہیں کیا گیا۔ طلبہ نے بتایا کہ خودکشی کرنے والے نوجوانوں کے افراد خاندان کو بھی نظرانداز کردیا گیا۔ تلنگانہ جدوجہد کے آغاز سے لے کر آج تک 11 برسوں سے بیروزگار نوجوان جونئیر، ڈگری اور یونیورسٹی سطح پر تقررات کا انتظار کررہے ہیں۔ گورنر کو بتایا گیا کہ تقررات کے سلسلہ میں نوجوان ایک نئی تحریک کے آغاز کا منصوبہ رکھتے ہیں۔ طلبہ کے نمائندوں نے گورنر کو 12 مطالبات پر مبنی یادداشت پیش کی۔

انہوں نے ریاست میں مخلوعہ 3 لاکھ سے زائد جائیدادوں پر تقررات کے نوٹیفکیشن کی پبلک سرویس کمیشن سے اجرائی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہر سال تقررات کے سلسلہ میں کیلنڈر جاری کیا جائے۔ 2008ء سے 2012ء تک اعلامیہ کی عدم اجرائی کے سبب امیدواروں کی اہلیت کی عمر ختم ہورہی ہے اور وہ مستقل طور پر روزگار سے محروم ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے مخلوعہ 5171 جونیئر لیکچررس، 2657 ڈگری لیکچررس، 140 گورنمنٹ ڈی ایڈ کالجس لیکچررس، 192 ڈی ایڈ کالجس لیکچررس اور یونیورسٹیز میں مخلوعہ 1528 جائیدادوں کے لیے فوری اعلامیہ جاری کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے خانگی یونیورسٹیز کے قیام سے متعلق جی او 17 کو فوری منسوخ کرتے ہوئے سرکاری یونیورسٹیز کو مستحکم کرنے کا مطالبہ کیا۔ طلبہ نے یونیورسٹیز کو ایک ہزار کروڑ کی گرانٹ جاری کرنے اور وائس چانسلرس کے فوری تقررات کا مطالبہ کیا۔ طلبہ نے انٹرمیڈیٹ نتائج میں دھاندلیوں کے بعد خودکشی کرنے والے طلبہ کے خاندانوں کو فی کس 10 لاکھ روپئے ایکس گریشیا اور دھاندلیوں کے ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے غریبوں کو موثر علاج کی سہولت کے لیے ہر ضلع میں مفت علاج کے مراکز قائم کرنے اور حیدرآباد میں عثمانیہ، گاندھی، نمس، ایمس اور دیگر ہاسپٹلس میں طبی سہولتوں کو بہتر بنانے کی اپیل کی۔ طلبہ کے وفد نے ڈینگو اور دیگر وبائی امراض کا حوالہ دیا اور کہا کہ سرکاری دواخانوں میں ان امراض کے علاج کے لیے سہولتوں کی کمی ہے۔ طلبہ نے کسانوں کو پیداوار کی امدادی قیمت کے سلسلہ میں بھی گورنر سے مداخلت کی اپیل کی۔ وفد میں جے اے سی چیرمین ایم بھاسکر، جے اے سی کے صدر اے دتاتریہ، پی یو جے اے سی کے صدرنشین جی پرکاش، حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی کے صدر وینکٹیش چوان، کے یو کے قائدین چرنجیوی، ومشی، تروملیش اور نوین موجود تھے۔