عثمانیہ یونیورسٹی کا لوگو 1951 سے 1960 کے درمیان بدلا گیا

   

کانگریس نے سب کچھ بدلا لیکن ٹی آر ایس پر تنقید کی جا رہی ہے ۔ وزیر داخلہ محمود علی کا وضاحتی بیان

حیدرآباد : وزیر داخلہ محمد محمود علی نے تلنگانہ حکومت کی جانب سے عثمانیہ یونیورسٹی کے لوگو کو تبدیل کرنے کی تردید اور سوشیل میڈیا میں حکومت کو تنقید کا نشانہ بنانے کی مذمت کی ۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا کی مہم میں کوئی سچائی نہیں ہے ۔وزیر داخلہ نے کہا کہ سوشل میڈیا پر مہم کا جائزہ لینے انہوں نے صدر شعبہ اردو عثمانیہ یونیورسٹی پروفیسر ایس اے شکور کو ذمہ داری دی تھی ۔ جائزہ لینے کے بعد پروفیسر شکور دستاویزات کے ساتھ انہیں رپورٹ پیش کی ہے ۔ دستاویزی رپورٹ کے حوالے سے یہ وضاحت کررہے ہیں کہ عثمانیہ یونیورسٹی لوگو میں جو تبدیلی ہوئی ہے اس کا آغاز 1951ء میں ہوا ہے کیونکہ اسی سال سے یونیورسٹی کا ذریعہ تعلیم اردو سے انگریزی میں تبدیل ہوگیا ۔ اس دور میں غیر محسوس طریقہ سے ’لوگو‘ میں ایک ایک چیز کو حذف کیا گیا جس سے پہلے ’ لوگو‘ سے نظام سابع نواب میر عثمان علی خان کے تاج کو ہٹایا گیا اس کے بعد حدیث مبارکہ کو جو ’’ لوگو‘‘ کے اوپری حصہ میں ہے سنسکرت عبارت میں بدلا گیا ۔ 1956ء کے آخری حصہ میں اردو کی تحریر جامعہ عثمانیہ کو تلگو زبان سے بدل دیا گیا ۔ اس طرح 1960ء سے پہلے ’ لوگو ‘ میں پوری طرح سے تبدیلی آئی ۔ محمد محمود علی نے کہا کہ لوگو کی تبدیلی کے متعلق سوشل میڈیا میں جو خبریں نشر کی جارہی ہیں اس سے ٹی آر ایس حکومت کا کوئی تعلق نہیں ہے ۔ انہوں نے اس معاملے میں غیر ضروری تلنگانہ حکومت کو تنقید کا نشانہ بنانے کی مذمت کی ۔محمد محمود علی نے بتایا کہ جن کے پاس سال 1960ء کے بعد کے سرٹیفیکٹ ہیں اس میں لوگو کا مشاہدہ کیا جاسکتا ہے جس میں تبدیل شدہ لوگو ہے ۔اس کے علاوہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سال 1960 کے بعد سے یونیورسٹی سطح پر جو بھی سرکولرز جاری کئے گئے ان میں تبدیل شدہ لوگو ہی ہے ۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ یہ عمل 1960ء سے پہلے شروع ہوا جس وقت کانگریس برسراقتدار تھی ۔ لوگو کی تبدیلی میں ٹی آر ایس کا کوئی رول نہیں ہے ۔ محمد محمود علی نے عوام سے اپیل کی کہ وہ غیر مصدقہ اور بے بنیاد خبروں پر بھروسہ نہ کریں اور انہوں نے سوشل میڈیا سے بھی درخواست کی کہ وہ میڈیا کے تقدس کو برقرار رکھیں ۔ غیرضروری بے بنیاد اور گمرہ کن خبروں کو نشر نہ کریں تاکہ ریاست میں امن و امان برقرار رہے ۔ ساتھ ہی تاریخ کا علم نہ رکھنے والے لوگ غیر ذمہ دارانہ طور پر ٹی آر ایس حکومت پر الزامات عائد کررہے ہیں جس کی وہ مذمت کرتے ہیں ۔