نصاب پر نظرثانی نہیں، ٹیچنگ اور نان ٹیچنگ اسٹاف کی کمی، نئے ڈپارٹمنٹس کی عدم تشکیل
حیدرآباد 31 مارچ (سیاست نیوز) کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل (سی اے جی) نے عثمانیہ یونیورسٹی کے بارے میں رپورٹ پیش کرتے ہوئے کئی نقائص اور خامیوں کی نشاندہی کی ہے۔ سی اے جی رپورٹ جو بجٹ سیشن کے آخری دن اسمبلی اور کونسل میں پیش کی گئی، اُس میں عثمانیہ یونیورسٹی کے گھٹتے معیار اور ازکار رفتہ نصاب کے علاوہ ٹیچنگ اور نان ٹیچنگ اسٹاف کی کمی کا ذکر کیا گیا ہے۔ سی اے جی نے نشاندہی کی ہے کہ یونیورسٹی کی اکیڈیمک سینٹ کا 2017ء اور 2022ء کے درمیان صرف 7 مرتبہ اجلاس منعقد ہوا جبکہ اِس مدت میں 12 مرتبہ اجلاس ضروری ہے۔ 2020ء اور 2021ء کے دوران ایک بھی اجلاس منعقد نہیں ہوا۔ بورڈ آف اسٹڈیز کی یونیورسٹی کے 36 ڈپارٹمنٹس میں تجدید نہیں کی گئی۔ یونیورسٹی کی کالج ڈیولپمنٹ کونسل غیر کارکرد ہوچکی ہے۔ سی اے جی نے رپورٹ میں کہاکہ 43 ڈپارٹمنٹس بشمول کامرس، بزنس مینجمنٹ، انجینئرنگ اور فزیکل ایجوکیشن میں نصاب پر نظرثانی نہیں کی گئی۔ یونیورسٹی میں کوئی نیا ڈپارٹمنٹ اور ادارہ قائم نہیں ہوا ہے۔ یونیورسٹی کے کئی ملحقہ کالجس اکریڈیٹیشن کے بغیر کام کررہے ہیں۔ 2018ء میں یونیورسٹی کی ترقی کے لئے ویژن ڈاکومنٹ تیار کیا گیا لیکن عمل آوری نہیں ہوئی۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بیرونی طلبہ کی تعداد میں 30 فیصد اضافہ کا نشانہ مقرر کیا گیا لیکن بیرونی طلبہ کی تعداد میں کمی واقع ہوئی ہے۔ فیکلٹی کی مخلوعہ جائیدادوں کی تعداد میں 26 سے 38 فیصد کا اضافہ ہوا جبکہ نان ٹیچنگ اسٹاف کی کمی مارچ 2023ء تک 34 فیصد درج کی گئی۔ جن اہم ڈپارٹمنٹس میں جائیدادیں مخلوعہ ہیں، اُن میں کامرس اینڈ بزنس مینجمنٹ 53 فیصد، انجینئرنگ 42 فیصد، ایجوکیشن 57 فیصد، فزیکل ایجوکیشن 71 فیصد، لا 70 فیصد اور ٹیکنالوجی 80 فیصد شامل ہیں۔ بیرونی طلبہ کی تعداد 2017-18ء میں 1149 درج کی گئی تھی جو 2021-22ء میں گھٹ کر 121 ہوچکی ہے۔ سی اے جی نے 2017-18ء سے 2021-22ء تک انڈر گرائجویٹ اور پوسٹ گرائجویٹ کورسیس میں داخلوں کی تفصیلات جاری کیں جس کے تحت داخلوں میں کمی کا رجحان دیکھا گیا ہے۔ سی اے جی نے ٹیچنگ اور نان ٹیچنگ اسٹاف کی کمی کے نتیجہ میں یونیورسٹی کے معیار میں گراوٹ کی نشاندہی کی ہے۔1