10 اہم عہدوں پر تقررات کا اعلان، پبلک سرویس کمیشن اور وائس چانسلر کے عہدوں میں بھی ناانصافی
حیدرآباد: تلنگانہ پبلک سرویس کمیشن کی تشکیل اور ریاستی یونیورسٹیز کے وائس چانسلرس کے تقررات میں مسلمانوں کو نظر انداز کئے جانے سے عام مسلمانوں میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ مسلمانوں کے جذبات اور احساسات کا احترام کرنے کے بجائے عثمانیہ یونیورسٹی میں اہم عہدوں پر تقررات میں پھر ایک بار مسلمانوں سے ناانصافی کی گئی ہے۔ نئے وائس چانسلر رویندر یادو نے ذمہ داری سنبھالتے ہی یونیورسٹی کے 8 اہم عہدوں پر تقررات عمل میں لائے ہیں۔ یونیورسٹی کے رجسٹرار اور کئی اہم اداروں پر تقررات کئے گئے لیکن ان میں ایک بھی مسلم نمائندہ شامل نہیں ہے۔ یونیورسٹی میں مسلم پروفیسرس موجود ہیں جو کسی بھی اہم عہدہ کی سینیاریٹی کے اعتبار سے اہلیت رکھتے ہیں، باوجود اس کے مخالف اقلیت ذہنیت نے انہیں مسلسل نظر انداز کردیا ہے ۔ نئے وائس چانسلر نے اپنے قریبی افراد کے ساتھ ٹیم تشکیل دی ہے ۔ پروفیسر پی لکشمی نارائنا ڈپارٹمنٹ آف میکانیکل انجنیئرنگ کو یونیورسٹی کا رجسٹرار مقرر کیا گیا ۔ پروفیسر بی ریڈیا نائک ڈپارٹمنٹ آف زوالوجی کو وائس چانسلر کا او ایس ڈی مقرر کیا گیا ۔ پروفیسر کے شیاملا ڈپارٹمنٹ آف کمپیوٹر سائنس کو ڈائرکٹر اکیڈیمی آڈٹ سیل کے عہدہ پر فائم کیا گیا ہے۔ پروفیسر سی گنیش ڈپارٹمنٹ آف سوشیالوجی کو پرنسپل یونیورسٹی آف آرٹس اینڈ سوشیل سائنسیس کا عہدہ دیا گیا ۔ پروفیسر بی سدھا کر ریڈی ڈپارٹمنٹ آف اکنامکس کو پرنسپل پی جی کالج سکندرآباد مقرر کیا گیا ۔ ڈاکٹر ایم راملو ڈپارٹمنٹ اف اکنامکس کو جوائنٹ ڈائرکٹر اکیڈیمک آڈٹ سیل کی ذمہ داری دی گئی ۔ پروفیسر بی نارائنا کو پرنسپل نظام کالج اور پروفیسر جی بی ریڈی کو ڈائرکٹر سنٹر فار ڈسٹنس ایجوکیشن مقرر کیا گیا ہے ۔ یہ تمام عہدے عثمانیہ یونیورسٹی کے تحت کلیدی اہمیت کے حامل ہیں۔ یونیورسٹی کے قیام کے بعد سے شائد یہ پہلا موقع ہے جب اہم عہدوں میں مسلم اقلیت سے ناانصافی کی گئی ۔ یونیورسٹی کے بانی آصف سابع نواب میر عثمان علی خاں نے اردو ذریعہ تعلیم سے آغاز کیا تھا لیکن بتدریج اردو کی جگہ انگریزی نے لے لی ہے۔ اس کے علاوہ یونیورسٹی کے لوگو سے اردو کو نکال دیا گیا ۔ یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی حیثیت سے پروفیسر ہاشم علی اختر ، پروفیسر سلیمان صدیقی اور دیگر مسلم شخصیتوں نے نمایاں خدمات انجام دیں۔ حکومت نے 10 یونیورسٹیز کے وائس چانسلرس میں ایک بھی مسلمان کو شامل نہیں کیا ۔ اس سے قبل تلنگانہ پبلک سرویس کمیشن کے صدرنشین اور ارکان کا تقرر کیا گیا۔ ان میں بھی مسلمانوں کو جگہ نہیں دی گئی ۔ حالانکہ پبلک سرویس کمیشن ایکٹ کے تحت مسلم نمائندگی لازمی ہے۔ حیرت اس بات پر ہے کہ حکومت کے اداروں اور یونیورسٹیز میں مسلمانوں سے ناانصافی پر برسر اقتدار پارٹی سے تعلق رکھنے والے عوامی نمائندے اور اقلیتی قائدین خاموش ہیں۔ حکومت کی حلیف مقامی جماعت کے علاوہ ٹی آر ایس کی تائید کرنے والے مذہبی قیادتوں کی خاموشی بھی معنی خیز ہے ۔