عثمانیہ یونیورسٹی کے فرضی انجینئرنگ سرٹیفکیٹ کا ریاکٹ بے نقاب

   

امریکہ روانگی کے منصوبہ کے دوران پولیس کی کارروائی میں ایک شخص گرفتار، اصل سازشی امریکہ میں مقیم
حیدرآباد۔/10 اگسٹ، ( سیاست نیوز) عثمانیہ یونیورسٹی کے فرضی انجینئرنگ سرٹیفکیٹ کے ریاکٹ کو بے نقاب کرتے ہوئے پولیس نے ایک شخص کو گرفتار کرلیا جو فرضی انجینئرنگ کی ڈگری کے ذریعہ امریکہ روانگی کا منصوبہ تیار کررہا تھا۔ اسپیشل آپریشن ٹیم ایل بی نگر زون نے ناچارم پولیس کے ساتھ ایک مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے 25 سالہ جانا دیاکر ریڈی ساکن ناچارم کو گرفتار کرلیا جبکہ اس ریاکٹ کا اصل سازشی ایم سوامی مفرور ہے جو امریکہ میں مقیم ہے۔ انجینئرنگ میں گیارہ بیاک لاگ سبجیکٹ کے بعد بھی امریکہ جانے کی خواہش رکھنے والے دیاکر نے فرضی سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کیلئے سوامی سے رابطہ کیا جو امریکہ میں رہتے ہوئے دیاکر ریڈی کو فرضی سرٹیفکیٹ فراہم کررہا تھا۔ پولیس نے بتایا کہ سوامی نے بتایا کہ سوامی بیچلر آف انجینئرنگ ( کمپیوٹر سائنس ) عثمانیہ یونیورسٹی کی ڈگری فراہم کرنے کیلئے دیاکر ریڈی سے دیڑھ لاکھ روپئے کا مطالبہ کیا اور دیاکر نے اسے رقم دینے کیلئے اپنی رضامندی ظاہر کی ۔ اگسٹ 2021 میں دیاکر نے بذریعہ فون پے رقم سوامی کو ادا کردیا۔ چند روزبعد جب دیاکر نے سوامی سے رابطہ کیا تو اس نے بتایا کہ وہ امریکہ پہنچ گیا ہے اور اس نے ایک اولا رائیڈر کے ذریعہ دیاکر کے مکان پر فرضی سرٹیفکیٹ روانہ کردیا۔ اس فرضی سرٹیفکیٹ کے ذریعہ دیاکر نے یو ایس اے کی مختلف یونیورسٹیز میں داخلہ کی درخواستیں داخل کیا اور ویزا انٹرویو کیلئے دہلی ، ممبئی اور حیدرآباد کے کونسلیٹ میں کوشش کے بعد ناکام ہوگیا۔ اس دوران پولیس عثمانیہ یونیورسٹی میں ایک مقدمہ درج کیا گیا جو بعد میں ایس آئی ٹی حیدرآباد کو منتقل کردیا گیا اور اس کی تحقیقات جاری تھیں۔ اس دوران خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے ایس او ٹی ایل بی نگر زون پولیس نے ناچارم پولیس کے ساتھ کارروائی کرتے ہوئے اس ریاکٹ کو بے نقاب کردیا۔ کمشنر پولیس نے بتایا کہ ایم سوامی کو امریکہ سے واپس لانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ انہوں نے نوجوانوں سے درخواست کی کہ وہ غلط راستہ سے اپنی منزل کو پانے کی کوشش نہ کریں جبکہ اس سے مستقبل روشن ہونے کے بجائے تاریک ہوجائے گی۔ع
منشیات تیار کرنے والی مینو فیکچرنگ یونٹ بے نقاب
حیدرآباد۔/10 اگسٹ، ( سیاست نیوز) شہر کے نواحی علاقہ میں منشیات تیار کرنے والی ایک مینو فیکچرنگ یونٹ کا پردہ فاش کرتے ہوئے راچہ کنڈہ پولیس نے دو افراد کو گرفتار کرلیا جس میں ایک مینو فیکچرراور ایک سپلائیر شامل ہے۔ اپل کے صنعتی علاقہ میں رازدارانہ انداز میں چلائے جارہے یونٹ میں نشیلی دوا میٹا فینا مائن کو تیار کیا جارہا تھا ۔ ع

خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے اسپیشل آپریشن ٹیم بھونگیر زون اور اپل پولیس نے مشترکہ کارروائی انجام دی۔ کمشنر پولیس مہیش بھگوت نے بتایا کہ 52 سالہ پی سرینواس ریڈی ساکن تارناکہ متوطن گنٹور ، 46 سالہ نامپلی لنن بابو ساکن کتہ پیٹ متوطن نارکٹ پلی کو گرفتار کرلیا گیا ہے جبکہ اس نشیلی دوا کو حاصل کرنے والا خریدار نیولین ساکن چینائی مفرور بتایا گیا ہے۔ پولیس نے ان کے قبضہ سے 30 لاکھ روپئے مالیتی اشیاء کو ضبط کرلیا۔ خام اشیاء کی خریداری کرتے ہوئے ان کے ذریعہ میٹا فینا مائن نامی نشیلی دوا کو تیار کیا جارہا تھا۔ گرفتار افراد اپل آئی ڈی اے میں آکاش مالیکولر ریسرچ پرائیویٹ لمیٹیڈ کے نام سے لیاب قائم کیا اور نشیلی دوا کو تیار کررہے تھے۔ پولیس نے اس لیاب سے کولیکن کیپسول، 2کاریں و دیگر اشیاء کو بھی ضبط کرلیا ۔ ع