عدالتوں میں زیر دوران اوقافی جائیدادوں کے مقدمات کا جائزہ

   

Ferty9 Clinic


قابضین کے خلاف قانونی کارروائی، صدر نشین وقف بورڈ محمد سلیم کا جائزہ اجلاس
حیدرآباد۔ صدر نشین وقف بورڈ محمد سلیم نے لیگل آفیسرس اور اسسٹنٹ سکریٹریز وقف بورڈ کو ہدایت دی ہے کہ عدالتوں میں زیر دوران مقدمات میں کامیابی کیلئے مقررہ وقت پر جوابی حلف نامہ داخل کریں۔ محمد سلیم نے آج لاء آفیسرس، اسسٹنٹ سکریٹریز اور مختلف شعبہ جات کے سپرنٹنڈنٹس کے ساتھ اجلاس منعقد کرتے ہوئے اوقافی جائیدادوں کے تحفظ اور مختلف عدالتوں میں زیر دوران مقدمات کا جائزہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ بروقت جوابی حلف نامہ کے عدم ادخال کے نتیجہ میں غیر مجاز قابضین کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حلف نامہ کی تیاری کے سلسلہ میں اسٹینڈنگ کونسل سے مشاورت کے بعد کارروائی کی جانی چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ جائیدادوں سے متعلق تمام ریکارڈ اسٹینڈنگ کونسلس کو بروقت فراہم کریں تاکہ عدالت میں پیش کرتے ہوئے اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جاسکے۔ محمد سلیم نے مختلف عدالتوں میں زیر دوران مقدمات کی تفصیلات اور ان کے تازہ ترین موقف کے بارے میں رپورٹ طلب کی۔ انہوں نے کہا کہ بعض مقدمات میں سینئر کونسلس کی خدمات حاصل کرتے ہوئے اراضیات کا تحفظ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے اوقافی جائیدادوں کے تحفظ میں خصوصی دلچسپی لیتے ہوئے رجسٹریشن کو روکنے کیلئے احکامات جاری کئے۔ وقف بورڈ کی جانب سے ابھی تک 200 سے زائد غیر مجاز رجسٹریشنس کو منسوخ کرنے کی کارروائی کی گئی ہے۔ محمد سلیم نے عہدیداروں سے کہا کہ اوقافی جائیدادیں اللہ کی امانت ہیں اور اہم اس کے محافظ ہیں۔ عہدیداروں اور ملازمین کو پوری دیانتداری کے ساتھ خدمات انجام دینا چاہیئے۔ انہوں نے بتایا کہ بہت جلد اسٹینڈنگ کونسلس کے ساتھ اجلاس منعقد کیا جائے گا۔ ضرورت پڑنے پر اسٹینڈنگ کونسلس کی تعداد میں اضافہ کی تجویز ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ عرصہ میں وقف بورڈ کو اہم جائیدادوں کے تحفظ میں عدالتوں سے کامیابی ملی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ چیف منسٹر کی ہدایت کے مطابق ہر ضلع میں اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے سلسلہ میں وقف بورڈ کو ریوینو، پولیس اور دیگر محکمہ جات سے تعاون حاصل ہوگا۔ وقف بورڈ کی جانب سے تمام ضلع کلکٹرس کو اوقافی جائیدادوں کی تفصیلات فراہم کردی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غیر مجاز قبضوں کی برخواستگی کیلئے پولیس میں ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔