عدالتی احکامات پر عمل آوری میں ناکامی حیڈرا پر ہائیکورٹ کی برہمی

   

حیدرآباد 17 فروری (سیاست نیوز) تلنگانہ ہائیکورٹ نے حیڈرا سے گنڈی پیٹ کے علاقہ میں 1600 مربع گز اراضی سے فینسنگ ہٹانے سے متعلق سابقہ احکامات پر عمل آوری کے بارے میں دریافت کیا۔ عدالت نے حیڈرا کے اِس دعوے پر شدید ردعمل کا اظہار کیاکہ ادارہ سرکاری اراضی کا تحفظ کررہا ہے۔ جسٹس این وی شراون کمار نے کہاکہ سرکاری اراضیات کے تحفظ کے لئے دستوری عدالتیں موجود ہیں اور حیڈرا جیسے ادارے عدالت سے برتر نہیں ہوسکتے۔ جسٹس شراون کمار نے ریمارک کیاکہ حیڈرا کے حکام عدالت کے احکامات پر عمل آوری کے بجائے من مانی فیصلے کررہے ہیں۔ عدالت نے اراضی کے مالکین کی درخواست پر حیڈرا سے کہا تھا کہ وہ فینسنگ کو نکال دیں۔ عدالت نے اراضی کے تعین کے سلسلہ میں خامیوں کو دور کرنے کی ہدایت دی تھی۔ جسٹس شراون کمار نے حیڈرا سے سوال کیاکہ وہ عدالتی احکام کی خلاف ورزی کی وجوہات بیان کریں۔ حیڈرا کے وکیل نے بتایا کہ مختلف گوشوں کی جانب سے سرکاری اراضیات پر ناجائز قبضوں کی شکایت پر یہ کارروائی کی گئی۔ درخواست گذاروں نے شکایت کی کہ کھلی اراضی پر فینسنگ کی گئی ہے۔ حیڈرا کے وکیل نے جب جواب داخل کرنے کے لئے مہلت مانگی تو جسٹس شراون کمار نے کہاکہ حیڈرا سے متعلق تقریباً 400 سے زائد معاملات عدالت میں زیردوران ہیں۔ جسٹس شراون کمار نے کہاکہ جب کبھی حیڈرا کے اُمور پر سماعت ہوتی ہے تو عہدیدار تعاون نہیں کرتے۔ اُنھوں نے 10 فروری کو جاری کردہ احکامات پر عمل نہ کرنے پر برہمی کا اظہار کیا اور اندرون 48 گھنٹے فینسنگ ہٹانے کی ہدایت دی۔ جسٹس شراون کمار نے حیڈرا کے وکیل سے کہاکہ احکامات پر عمل آوری کو یقینی بنائیں۔1