بغداد ۔26 اکتوبر ۔( سیاست ڈاٹ کام ) عراق میں جمعہ کو ہونے والے حکومت مخالف مظاہروں کے دوران تشدد میں مرنے والوں کی تعداد 30 ہو گئی جبکہ 23 سو سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔عراق کے انسانی حقوق کمیشن نے یہ اطلاع دی ۔ میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا کہ حکومت مخالف مظاہروں کے دوران دو افراد ہلاک ہوئے اور 377 دیگر زخمی ہوئے ہیں۔انسانی حقوق کمیشن نے اپنے فیس بک پر لکھا سیکورٹی فورسز، پارٹی دفتروں کے گارڈوں اور مظاہرین کے درمیان تشدد میں مہلوکین کی تعداد 30 ہو گئی ہے ۔ ان میں آٹھ افراد بغداد میں، نو افرادصوبہ میسن میں، نوافراد صوبہ ذی قار میں، تین افراد بصرہ میں اور ایک شخص المثنیٰ میں مارا گیا ۔مظاہروں میں زخمی ہونے والوں کی تعداد 2،312 تک پہنچ گئی ، جس میں سیکورٹی اہلکار بھی شامل ہیں۔ ان میں سے 1،493 افراد بغداد میں زخمی ہوئے جبکہ ذی قار میں 90 ، واسط میں 10 ، المثنیٰ میں 151 اور بصرہ میں 301 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ صوبہ الدیوانیہ میں 112 ، میسن میں 105 اور صوبہ کربلا میں 50 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ مظاہروں میں الدیوانیہ ، میئن، واسط، ذی قار ، بصرہ میں 50 سرکاری عمارتوں ٰ دفتر وں کو نقصان پہنچا ۔ مذہبی سفر کی وجہ یکم اکتوبر سے مظاہرے ملتوی تھے جو جمعہ سے شروع ہو گئے۔ پہلے دور کے مظاہرہ کے دوران 149 افراد ہلاک ہوئے جبکہ 35 سو افراد زخمی ہوئے تھے ۔قابل ذکر ہے کہ عراق میں حکومت کے استعفی، اقتصادی بحالی اور بدعنوانی کے خاتمہ کیلئے لوگ احتجاج کر رہے ہیں۔