بغداد 15 جون ( سیاست ڈاٹ کام ) امریکہ نے عراق کو مزید 90 دن تک تحدیدات سے استثنی دیا ہے اور اجازت دی ہے کہ وہ پڑوسی ملک ایران سے اہم توانائی درآمدات جاری رکھ سکتا ہے حالانکہ اس پر دوبارہ تحدیدات عائد کردی گئی ہیں ۔ سرکاری ذرائع نے یہ بات بتائی ۔ کہا گیا ہے کہ واشنگٹن میںاس سلسلہ میں مسلسل مذاکرات کا سلسلہ چل رہا تھا جس کے بعد عراق کو ایران سے درآمدات کے مسئلہ پر توسیع دی گئی ہے ۔ سابق میں جو اجازت اور استثنی دیا گیا تھا اس کی مہلت اب ختم ہونے کے قریب تھی ۔ سارے حالات سے واقفیت رکھنے والے عہدیداروں نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر یہ بات بتائی ۔ کہا گیا ہے کہ عراق کے دو قریبی حلیفوں امریکہ اور ایران کے مابین کشیدگی کی وجہ سے عراق کیلئے مشکل صورتحال درپیش ہوگئی تھی ۔ دونوں ملکوں کے مابین خلیج میں ٹینکروں پر حملوں کی وجہ سے بھی کشیدگی پیدا ہو رہی ہے جس کیلئے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کو ذمہ دار قرار دیا ہے ۔ ایران سے توانائی درآمدات عراق کیلئے اہمیت کی حامل ہیں کیونکہ عراق میں توانائی کی شدید قلت ہے اور وہاں اکثر تاریکی ہوتی ہے اور کئی موقعوں پر 20 گھنٹوں تک برقی منقطع رہتی ہے ۔ بغداد میں گرمی کی وجہ سے درجہ حرارت پہلے ہی بڑھتا جا رہا ہے جس کے نتیجہ میں برقی کی طلب میں اضافہ ہوگیا ہے اور یہ اندیشے ظاہر کئے جا رہے ہیں کہ اگر برقی درآمد نہیں کی گئی تو گذشتہ سال گرمی کی طرح یہاں اب بھی انتہائی ابتر صورتحال پیدا ہوجائے گی ۔ عراق ‘ ایران سے یومیہ 28 ملین کیوبک میٹرس گیس درآمد کرتا ہے تاکہ ملک میں برقی پیداوار ممکن ہوسکے ۔ اس کے علاوہ وہ 1,300 میگاواٹ برقی بھی راست درآمد کرتا ہے ۔ عراق کا ‘ توانائی ضرورت کیلئے ایران پر اس قدر زیادہ انحصار واشنگٹن کیلے بے چینی والا ہے کیونکہ علاقہ میں ایران کو وہ اپنا سب سے بڑا دشمن سمجھتا ہے ۔