بغداد ، 25 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) عراقی پولیس نے جمعہ کو ہزاروں مخالف حکومت احتجاجیوں کو منشتر کرنے کیلئے فائرنگ کرنے کے ساتھ ساتھ ربڑ کی گولیاں چلائیں اور آنسو گیس کے درجنوں شلوں کا استعمال کیا، جس پر نوجوان مظاہرین تک دارالحکومت بغداد میں سفید دھویں کے گہرے بادلوں کے درمیان تنفسی مسئلے سے بچنے کیلئے پریشانی کے عالم میں اِدھر ادھر دوڑتے دیکھے گئے۔ زیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ 23 احتجاجی ہلاک ہوگئے اور درجنوں دیگر زخمی ہوئے ہیں۔ سکیورٹی عہدے داروں نے کہا کہ فورسیس اور احتجاجیوں کے درمیان تصادم کی شروعات صبح ہوئی جب تین ہفتے کے وقفے بعد مخالف حکومت مظاہروں کا احیاء کیا گیا۔ اکٹوبر کے اوائل احتجاجوں کا آغاز کرپشن، بے روزگاری اور بنیادی سہولتوں کے فقدان کے موضوعات پر ہوا تھا لیکن تیزی سے یہ خطرناک شکل اختیار کرتا گیا کیونکہ سکیورٹی فورسیس نے سخت رویہ اپناتے ہوئے کئی دنوں تک احتجاجیوں کے خلاف اسلحہ و گولہ بارود استعمال کئے۔ تب احتجاج کئی صوبوں بالخصوص شیعہ آبادی والے جنوبی صوبہ جات میں پھیلتا گیا اور حکام نے کرفیو لاگو کردیا نیز کئی دنوں تک انٹرنٹ بند کردیا تاکہ بدامنی کا سدباب کیا جاسکے۔ حکومت کی مقررہ انکوائری کمیٹی نے پایا کہ 149 افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور زائد از 3,000 دیگر زخمی ہوئے۔ بغداد اور جنوب میں سکیورٹی سربراہوں کو برطرف کرنے کی سفارش بھی کی گئی۔
