جامع مسجد عالیہ میں محفل اقبال شناسی سے ضیاء الدین نیر کی مخاطبت
حیدرآباد ۔ /6 اکٹوبر (پریس نوٹ) علامہ اقبال کے نزدیک حضرت ابراہیم علیہ السلام سچے عاشق تھے اور عشق حقیقی کی قوت ان کا بڑا اثاثہ تھی ۔ اس لئے ان کا بتوں کو توڑنا آسان بن گیا ۔ علامہ کے نظریات میں عشق کی قوت کا حضرت ابراہیم علیہ السلام کے حوالہ سے پہلا اظہار ہے ۔ دراصل یہ اساس ہے ان کے تصور عشق کی ، جس کا اظہار انہوں نے ’’سوامی رام تیرتھ‘‘ کے حوالہ سے کیا ہے ۔ اس سے قبل بھی علامہ اقبال نے اپنی نظم ’’عشق اور موت‘‘ میں عشق کو غیرفانی قرار دیا ہے ۔ یہ ایک ایسی چنگاری ہے جو انسان کے دل میں رہتی ہے ۔ اقبال کے ہاں تصور عشق کی پہلی صورت ہے جو ان کے اردو کلام میں ظاہر ہوئی ہے اور وہ بھی حضرت ابراہیم علیہ السلام کے جذبۂ توحید کی شکل میں ۔ ابراہیم علیہ السلام کے عشق توحید نے یہ گوارا نہ کیا کہ بتوں کو خدا بنایا جائے اور شرک کا ارتکاز کیا جائے ۔ چنانچہ انہوں نے بتوں کو پاش پاش کردیا ۔ اس کے توسط سے انسان اپنی خواہش اوراپنے لالچ کو اللہ کی محبت میں فنا کردیتا ہے اس کے دل سے دنیوی تمنا مالی دولت اور عیش و عشرت کی خواہش مٹ جاتی ہے ۔ پھر معرفت الٰہی کا رنگ صبغۃ اللہ ، احسن صبغۃ میں ڈھل جاتا ہے ۔ گویا انسان کو عشق الہٰی سے سرشار رہ کر اپنی زندگی کو ملت کی بہبود اور پیام الٰہی کی اشاعت کے لئے وقف کردینا چاہیے ۔ ان خیالات کا اظہار جناب محمد ضیاء الدین نیر نے ’ اقبال کا تصور امامت و قیادت ‘ کے موضوع پر ، کانفرنس ہال جامع مسجد عالیہ میں محفل اقبال شناسی کی (997) ویں نشست کو مخاطب کرتے ہوئے کیا ۔ آغاز حافظ محمد تنویر احمد کی قرأت کلام پاک سے ہوا ۔ کنوینر محافل جناب غلام یزدانی سینئر ایڈوکیٹ نے مقرر اور موضوع کا مختصراً تعارف کرایا ۔ جناب محمد ضیاء الدین نیر نے سلسلۂ خطاب کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ اقبالؔ نے یقین کی ماہیت بیان کی ہے کہ یقین اللہ کی ہستی پر ایسے پختہ اعتقاد کا نام ہے جس کی بدولت مومن اپنی جان کو خطرہ میں ڈال سکتا ہے ۔ چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام خوشی خوشی آگ میں داخل ہوگئے تھے ۔ کیوں کہ انہیں یقین واثق تھا کہ اللہ ضرور میری حفاظت کرے گا ۔ یقین اللہ کے عشق میں خود رفتہ ہوجانے کو کہتے ہیں ۔ جب تک اللہ کی ہستی پر اعتماد کامل نہ ہو عشق پیدا ہو نہیں سکتا ورنہ بے یقینی خودی کی موت ہے ۔