وزارت ِ فروغ انسانی وسائل کا نیا نام ’’ایجوکیشن منسٹری‘‘ ہوگیا
نئی دہلی۔مرکزی کابینہ نے آخرکار چہارشنبہ کو نئی تعلیمی پالیسی کو منظوری دے دی جس کا طویل عرصہ سے انتظار کیا جارہا تھا۔ سرکاری ذرائع کے مطابق وزیراعظم نریندر مودی کی صدارت میں کابینہ کا اجلاس منعقد ہوا جس میں اس پالیسی کو منظوری دی گئی۔اجلاس میں فروغ انسانی وسائل کے وزیر ڈاکٹر رمیش پوکھریال نشنک بھی موجود تھے ۔اسمرتی ایرانی پچھلی حکومت میں فروغ انسانی وسائل کی وزیر تھیں، تب سے نئی تعلیمی پالیسی بنانے کا عمل شروع ہوا اور اس طرح تقریباً 6 برس بعد نئی تعلیمی پالیسی کوحتمی شکل دی گئی اور مودی کابینہ نے اس پر اپنی مہر لگا دی۔اس سے پہلے سابق وزیراعظم راجیو گاندھی نے اپنے دفتر میں نئی تعلیمی پالیسی بنائی تھی۔ ملک میں اس درمیان تعلیم کے شعبہ میں آئی تبدیلی کے پیش نظر حکومت نے نئی تعلیمی پالیسی تیار کی تاکہ بدلے ہوئے حالات میں، خاص طورپر ٹیکنالوجی میں آئی تبدیلی کے پیش نظر ڈیجیٹل تعلیم اور انوویشن کو اس میں شامل کیا جاسکے۔ کابینہ نے وزارت فروغ انسانی وسائل کا نام بدل کر ’’وزارت ِ تعلیم ‘‘ یعنی ’’ایجوکیشن منسٹری‘‘ کردیا ہے۔ اسرو کے سابق صدر کے کستوری رنگن کی زیرقیادت ایک پیانل نے گزشتہ سال اس وقت نئی تعلیمی پالیسی کا مسودہ وزارت کو پیش کیا تھا جب پوکھریال نے وزیر کا عہدہ حاصل کیا تھا۔