آئندہ ہفتہ اسمبلی میں ترمیمی قانون کی منظور ی کا عزم ، ممتا بنرجی کا ریالی سے خطاب
کولکتہ: مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی، کولکتہ میں ایک نوجوان ڈاکٹر کی عصمت ریزیاور قتل کے بعد سے اپوزیشن کے بڑے پیمانے پر دباؤ میں ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ ریاست میں قوانین کو تبدیل کریں گی تاکہ عصمت ریزی کیلئے سزائے موت کو لازمی بنایا جا سکے۔ اس ترمیم کو اگلے ہفتے ریاستی اسمبلی سے منظور کیا جائے گا۔ عصمت ریزی کیلئے صرف ایک ہی سزا ہونی چاہیے ۔ پھانسی، پھانسی، پھانسی ۔ انہوں نے آج ایک ریلی میں کہا کہ فی الحال عصمت ریزی کے قوانین میں سزائے موت کے ساتھ جیل کی سزا کا بھی انتظام ہے۔ مجرم کو سزا سنائے جانے کے بعد سزا کی شدت کے بارے میں فیصلہ کرنا جج کا اختیار ہے۔ ممتا بنرجی، جن کی حکومت عصمت ریزی اور قتل سے متعلق متعدد مسائل کی زد میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی اور حکومت نے پہلے بھی ایک کیس میں سزائے موت کا مطالبہ کیا تھا لیکن یہ کام نہیں ہوا۔ مجرموں کو جیل بھیج دیا گیا۔ وزیر اعلیٰ نے کہاکہ ہم کامدونی عصمت ریزی کیس کے لیے بھی سزائے موت چاہتے تھے۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔ وہ رہا ہوگئے۔ میرے پاس فائلیں ہیں ۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ انہیں کیوں رہا کیا جائے؟ قاتل کو کیوں چھوڑا جائے؟ ریپ کرنے والے کو کیوں چھوڑا جائے؟ حملہ آور، تشدد کرنے والے کو کیوں چھوڑا جائے؟ انہوں نے کہا کہ انہوں نے وزیراعظم نریندر مودی کو خط لکھ کر اپیل کی ہے کہ ایسی تمام خامیاں دور کی جائیں۔ لیکن ایسا بھی نہیں ہوا۔ ایسی نیائے سمہیتا بنانے کا کیا فائدہ؟ ممتابنرجی نے کہا کہ وہ راج بھون کے باہر دھرنے پر بیٹھیں گی اگر گورنر ترمیم شدہ بل کو منظوری دینے میں تاخیر کرتے ہیں یا اسے توثیق کے لیے صدر جمہوریہ ہند کے پاس بھیج دیتے ہیں۔ اگرچہ قواعد کا تقاضا ہے کہ اس طرح کے قانون پر صدر کو دستخط کرنا ہوں گے، کیونکہ فوجداری قانون ایک ایسا معاملہ ہے جو مرکز اور ریاست دونوں کے تحت آتا ہے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ان کی ترنمول کانگریس ہفتہ سے ایک تحریک شروع کرے گی تاکہ مرکز پر اسی طرح کی قانون سازی کے لیے دباؤ ڈالا جا سکے۔
ممتا بنرجی کے گھر پر حملہ کی منصوبہ بندی‘ 5 گرفتار
کولکتہ: چیف منسٹرمغربی بنگال ممتا بنرجی کی کالی گھاٹ میں واقع رہائش گاہ پر حملہ کرنے کی منصوبہ بندی کے الزام میں جمعرات کو 5 افراد کو گرفتار کیا گیا۔کولکتہ پولیس نے بتایا کہ ملزم نے ایک واٹس ایپ گروپ پر جرم کا منصوبہ بنایا۔گرفتار افراد بشمول دو خواتین کی شناخت کرشنا گھوش، برشا گھوش، سبھم سینشرما، اریجیت ڈے اور سوگوتو بنرجی کے طور پر کی گئی ہے۔ڈے اور سواگوتو اس واٹس ایپ گروپ کے ایڈمن تھے۔سوشل میڈیا گروپ پر کئی تحریری اور صوتی پیغامات بھیجے گئے جن میں ممتا بنرجی کے گھر پر حملہ کرنے کیلئے ایک جگہ جمع ہونیکی ہدایت دی گئی۔ان پانچوں کے خلاف نئی نافذ کردہ بھارتیہ شہری تحفظ سنہتا کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ کولکاتہ کے آر جی کر میڈیکل کالج اور ہاسپٹل میں ٹرینی ڈاکٹر کی عصمت ریزی اورقتل کے بعد بنگال کی سیاست میں زبردست ہلچل دیکھی جارہی ہے۔