انڈین آرمی اور چین کی پی ایل اے کے درمیان ملٹری بات چیت کے پانچویں راؤنڈ کا انعقاد
نئی دہلی : انڈین آرمی نے چین کی پی ایل اے کو فوجی مذاکرات کے پانچویں راؤنڈ میں واضح کردیا کہ ہندوستان علاقائی سالمیت پر کوئی مفاہمت نہیں کرے گا اور صاف صاف کہہ دیا کہ مشرقی لداخ میں پانگانگ ٹیسو اور چند دیگر متنازعہ مقامات سے فوجی دستوں کو ہٹانے کا کام جلد از جلد مکمل کرلیا جانا چاہئے ، پیر کو ان تبدیلیوں سے واقف ذرائع نے یہ بات کہی ۔ دونوں فوجوں کے سینئر کمانڈرس نے حقیقی خط قبضہ (ایل اے سی ) کی چینی سمت پر مولدو میں واقع مقررہ مقام پر اتوار کو تقریباً گیارہ گھنٹے سیرحاصل مذاکرات منعقد کئے ۔ ذرائع نے کہاکہ ہندوستانی وفد نے دو ٹوک موقف اختیار کیا اور ٹھوس انداز میں چینی فریق کو واقف کرایا کہ مشرقی لداخ کے تمام علاقوں میں جوں کے توں موقف کی بحالی دونوں ملکوں کے درمیان مجموعی روابط کے لئے کلید ہیںاور یہ کہ بیجنگ کو یقینی بنانا چاہئے کہ بقیہ متنازعہ مقامات سے بھی اُس کے فوجی دستے واپس ہوجائیں گے ۔ یہ بھی نہایت وضاحت سے واقف کرایا گیا کہ انڈین آرمی ملک کی علاقائی سلامتی پر مفاہمت نہیں کرے گی ۔ چینی فوج گلوان وادی اور بعض دیگر علاقوں سے واپس ہوچکی ہے لیکن پانگانگ ٹیسومیں فنگر 4 اور فنگر 8کے علاقوں سے ہندوستان کے مطالبے کے مطابق اُس کے دستے واپس نہیں ہوئے ہیں۔ یہ پہاڑی اُس علاقے میں واقع ہے جسے فنگرس سے موسوم کیا گیاہے ۔ چین نے گوگرا علاقوں سے بھی اپنے دستوں کو پوری طرح واپس طلب نہیں کیا ہے ۔ اتوار کی بات چیت میں توجہہ کا مرکز اُن قواعد کار کو قطعیت دینا رہا جو کشیدگی میں زیادہ سے زیادہ کمی کے لئے درکار ہیں اور یہ کہ مختلف متنازعہ مقامات سے دستوں کو واپس طلب کیا جائے ۔ ذرائع نے کہاکہ دونوں فریقوں نے اپنی متعلقہ ملٹری اور سیاسی قیادت کے ساتھ مذاکرات کی تفصیلات پر تبادلۂ خیال بھی کیا۔ آرمی چیف جنرل ایم ایم نروانی کو پیر کی صبح بات چیت کے تعلق سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اس کے بعد مشرقی لداخ کی مجموعی صورتحال پر سینئر ملٹری عہدیداروں کے ساتھ غور و خوض کیا گیا ۔ معلوم ہوا ہے کہ قومی سلامتی مشیر اجیت ڈوال اور وزیر اُمور خارجہ ایس جئے شنکر کو بھی بات چیت کے تعلق سے واقف کرایا گیا ۔ ساری فوجی قیادت اور حکمت ساز عہدیداروں کو سرحدی تنازعہ سے نمٹنے اور ضروری اقدامات کرنے کا کام سونپا گیا ہے ۔ ہندوستانی وفد کی قیادت لیفٹننٹ جنرل ہریندر سنگھ اور کمانڈر 14 کور ، لیہہ نے کی جبکہ چینی طرف سے میجر جنرل لیو لینگ ، کمانڈر ساؤتھ سنکیانگ ملٹری ریجن نے سربراہی کی ۔ کور کمانڈر سطح کی بات چیت کا گزشتہ راؤنڈ ایل اے سی کی ہندوستانی جانب 14جولائی کو منعقد کیا گیا تھا اور وہ تقریباً 15 گھنٹے چلا تھا ۔ اس میٹنگ کی تفصیلات کے بارے میں سرکاری طورپر کوئی بیانات سامنے نہیں آئے ہیں۔