علی خامنہ ای کے ساتھی کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے: اسرائیل

   

یروشلم ۔ 7 مارچ (ایجنسیز) اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے دارالحکومت تہران میں کیے گئے ایک فضائی حملے میں ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے قریبی ساتھی اصغر حجازی کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ یاد رہے کہ ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای حالیہ جنگ میں امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں میں شہید ہو چکے ہیں۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اصغر حجازی خامنہ ای کے دفتر کے چیف آف اسٹاف سمجھے جاتے تھے اور ایران کی طاقتور سیکوریٹی اسٹیبلشمنٹ میں اہم کردار ادا کرتے تھے۔ اصغر حجازی کو سپریم لیڈر کے نہایت قریبی ساتھیوں میں شمار کیا جاتا تھا اور انہیں ایران کے حساس سیکوریٹی اور انٹیلی جنس امور میں بھی بااثر شخصیت سمجھا جاتا تھا۔ دوسری جانب ایرانی حکام کی جانب سے اب تک اس بات کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی کہ اصغر حجازی اسرائیلی حملے میں زخمی ہوئے ہیں یا جاں بحق ہوگئے ہیں۔ دوسری جانب اسرائیلی فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ تہران میں کیے گئے اس حملے کے نتائج اور نقصانات کے بارے میں مزید تفصیلات بعد میں جاری کی جائیں گی۔