سماج وادی لیڈر لال جی سمن کا صدرنشین راجیہ سبھا کو مکتوب، سپریم کورٹ میں سات رکنی بنچ کا فیصلہ محفوظ
حیدرآباد۔/23 اکٹوبر، ( سیاست نیوز) سماج وادی پارٹی کے سینئر لیڈر اور رکن راجیہ سبھا رام جی لال سمن نے پرائیویٹ ممبر بل پیش کیا تاکہ علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کے اقلیتی کردار کو بحال کیا جائے۔ علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کے اقلیتی کردار کا معاملہ طویل عرصہ سے قانونی کشاکش کا شکار ہے۔ سپریم کورٹ کے 7 رکنی بنچ نے فروری 2024 میں اس مسئلہ پر8 دن تک سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ کردیا ہے۔ راجیہ سبھا کے سکریٹری کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے سماج وادی پارٹی رکن نے بتایا کہ وہ پارلیمنٹ کے آئندہ سیشن میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی اقلیتی کردار بحالی بل 2024 متعارف کرنا چاہتے ہیں۔ چیف جسٹس آف انڈیا ڈی وائی چندر چوڑ کی میعاد آئندہ ماہ ختم ہورہی ہے اور پارلیمنٹ کا اجلاس بھی جاری نہیں ہے ایسے میں سماج وادی پارٹی رکن کی جانب سے بل کی تجویز پیش کرنا اہمیت کا حامل ہے۔ رام لال جی سمن نے جو سابق مرکزی وزیر بھی ہیں کہا کہ وہ سپریم کورٹ کے فیصلہ سے قبل خانگی بل متعارف کرتے ہوئے عدلیہ سے ٹکراؤ نہیں چاہتے۔ بل سے سماج میں مثبت پیام جائے گا۔ نریندر مودی حکومت علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کے اقلیتی کردار کی مخالفت کررہی ہے۔ انہوں نے خانگی بل متعارف کرنے کیلئے پارٹی قیادت سے اجازت حاصل کی یا نہیں اس بارے میں صورتحال غیر واضح ہے تاہم دلت طبقہ سے تعلق رکھنے والے رکن راجیہ سبھا نے کہا کہ بل پارٹی کے موقف کے مطابق ہے جو یونیورسٹی کے اقلیتی کردار کی بحالی کے حق میں ہے۔ سماج وادی پارٹی کے قائدین اس بات پر خاموش ہیں کہ سمن نے کس کی ہدایت پر یہ تجویز پیش کی ہے جبکہ اتر پردیش میں 9 اسمبلی نشستوں کیلئے ضمنی چناؤ کے سبب سیاسی ماحول گرم ہے۔ رکن راجیہ سبھا نے کہا کہ وہ بنیاد پرست طاقتوں کو سبق سکھانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ درج فہرست اقوام کے مفادات کا تحفظ ان کی اولین ترجیح ہے۔ یونیورسٹی میں مسلم طلبہ کیلئے پوسٹ گریجویٹ میڈیکل کورسیس میں 50 فیصد نشستوں کے مختص کئے جانے کو الہ آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا اور ہائی کورٹ نے تحفظات کی پالیسی کو کالعدم کردیا تھا۔ علیگڑھ مسلم یونیورسٹی اور مرکزی حکومت نے 2006 میں الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلہ کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا۔ 2016 میں این ڈی اے حکومت نے اپیل سے دستبرداری اختیار کرلی۔ یونیورسٹی اور دیگر تنظیمیں اقلیتی کردار کیلئے قانونی لڑائی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے 2019 میں مقدمہ کو سات رکنی بنچ سے رجوع کردیا۔ چیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ نے 12 اکٹوبر 2023 کو سات رکنی بنچ تشکیل دیا۔ یکم فروری 2024 کو سپریم کورٹ نے اپنا فیصلہ محفوظ کردیا۔ 8 دن تک اس معاملہ کی سماعت جاری رہی۔ سات رکنی بنچ کو اس بات کا جائزہ لینے کی ذمہ داری دی گئی ہے کہ آیا علیگڑھ مسلم یونیورسٹی دستور کی دفعہ 30 کے تحت اقلیتی ادارہ قرار دیئے جانے کی اہل ہے۔ پارلیمنٹ کے اجلاس کے آغاز کے بعد سماج وادی رکن کے خانگی بل کے موقف کا پتہ چلے گا۔1