فرقہ وارانہ کشیدگی کے سبب انٹرنیٹ خدمات معطل، زائد سیکوریٹی فورس تعینات اور سرکل انسپکٹر کا تبادلہ
علیگڑھ ۔ 10 جون (سیاست ڈاٹ کام) اترپردیش کے علیگڑھ کے تحت واقع علاقہ تپال میں ایک ڈھائی سالہ کمسن لڑکی کے بہیمانہ قتل کے خلاف احتجاج کیلئے دائیں بازو کے سخت گیر انتہاء پسندوں کی ’مہا پنچایت‘ کو ناکام بنانے پولیس کی کوششوں کے ایک دن بعد حکام نے اس علاقہ میں پیر کو انٹرنیٹ خدمات معطل کرتے ہوئے پولیس اور نیم فوجی فورسیس نے بھاری کمک تعینات کئے ہیں۔ تپال کے سرکل آفیسر پنکج سری واستوا کا پیر کو تبادلہ کردیا گیا جو چند دن قبل پیش آئے مختلف واقعات کے سبب تنقید کا نشانہ بنے تھے۔ پولیس نے اس علاقہ سے مسلمانوں کے تخلیہ کی اطلاعات کی تردید کی ہے اور کہا کہ صرف چند افراد عارضی طور پر منتقل ہوئے ہیں لیکن بہت جلد واپس ہوں گے۔ ہندوستانی فوجداری قانون کی دفعہ 144 کے تحت تپال میں امتناعی احکام نافذ کردیئے ہیں کیونکہ وہاں فرقہ وارانہ گڑبڑ کے اندیشے پیدا ہوگئے تھے۔ عہدیداروں نے سوشیل میڈیا پر میسیجس یا ویڈیوز کے ذریعہ اشتعال انگیزی پھیلانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا انتباہ دیا ہے۔ تپال میں ایک ڈھائی سالہ لڑکی کی بہیمانہ قتل کے بعد چند شرپسندوںنے افواہیں پھیلاتے ہوئے ایک فرضی ویڈیو سوشیل میڈیا پر گشت کروایا تھا جس کے سبب فرقہ وارانہ جذبات بھڑکنے کا اندیشہ تھا۔ جسٹس مجسٹریٹ چندر بھوشن سنگھ نے غیرتحصیل میں انٹرنیٹ خدمات پر مکمل امتناع عائد کرنے کا حکم دیا ہے۔
