ممبئی ، 20 مارچ (یو این آئی) عمان کی بندرگاہ کے قریب آئل ٹینکر اسکائی لائٹ پر یکم ؍ مارچ 2026 کو ہوئے میزائل حملے میں بچ جانے والے 8 بھارتی ملاح 18 مارچ 2026 کو ممبئی واپس پہنچ گئے ، تاہم اب انہیں پاسپورٹ، شناختی دستاویزات، رقم اور ذاتی سامان کے نقصان کے باعث نئی مشکلات کا سامنا ہے۔ یہ تمام ملاح زیادہ تر 20 سال کی عمر کے ابتدائی مرحلے میں ہیں اور اپنی پہلی بیرونِ ملک ملازمت پر تھے ۔ ان کا تعلق مغربی بنگال، ہریانہ، راجستھان اور آندھرا پردیش سے ہے ۔ حادثہ اس وقت پیش آیا جب صبح تقریباً 7:05 بجے ایک زور دار دھماکے نے ٹینکر کو ہلا دیا، جس کے نتیجے میں بجلی منقطع ہو گئی اور آگ تیزی سے پھیل گئی۔ دھوئیں اور شعلوں کے باعث راستے بند ہونے پر عملے کو سمندر میں چھلانگ لگانی پڑی، جہاں عمانی فوج نے چند منٹوں میں انہیں بچا لیا۔ اس حملے میں بہار سے تعلق رکھنے والے کپتان آشیش کمار ہلاک ہو گئے ، جبکہ راجستھان کے دلیپ سنگھ تاحال لاپتہ ہیں۔ بچاؤ کے بعد یہ ملاح کئی دن تک عمان میں پھنسے رہے کیونکہ ان کے تمام سفری دستاویزات تباہ ہو چکے تھے ۔ وہ خاصب ایئرپورٹ کے ایک کمرے میں مقیم رہے ، جہاں بھارتی حکام نے ہنگامی سفری اجازت نامے (آؤٹ پاس) کا انتظام کیا۔ بعد ازاں یہ عملہ 17 مارچ 2026 کو مسقط کے ذریعے روانہ ہوا اور اگلے دن ممبئی پہنچا، جہاں انہیں نوی ممبئی کے ایک دفتر لے جایا گیا تاکہ ضروری کارروائی مکمل کی جا سکے ۔ متاثرین کے مطابق ان سے کچھ ایسے کاغذات پر دستخط کروائے گئے جنہیں وہ مکمل طور پر سمجھ نہیں سکے ، اور بعد میں انہیں خود رہائش کا انتظام کرنے کیلئے چھوڑ دیا گیا۔ اگرچہ ان کی تنخواہیں ان کے کھاتوں میں منتقل کر دی گئی ہیں، لیکن شناختی دستاویزات نہ ہونے کی وجہ سے بیشتر ملاح اپنی رقم نکالنے سے قاصر ہیں۔ صرف ایک ملاح اپنے اکاؤنٹ تک رسائی رکھتا ہے اور وہی گروپ کے اخراجات اٹھا رہا ہے ۔ شپنگ ایجنسی نے ضروری اشیاء کی خریداری کے اخراجات واپس کرنے کا وعدہ کیا ہے ، تاہم متاثرین ابھی تک غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں کہ وہ کب اپنے گھروں کو واپس جا سکیں گے ۔ ڈائریکٹوریٹ جنرل آف شپنگ کے حکام کے مطابق دستاویزات دوبارہ جاری کرنے اور نقصانات کے مطابق معاوضہ طے کرنے کیلئے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ لکھنؤ میں قائم ایس کے ایس کرشی میرین سروسز کے ڈائریکٹر سمیت سنگھ نے بتایا کہ تمام ملاحوں، بشمول ہلاک اور لاپتہ افراد، کی تنخواہیں ادا کر دی گئی ہیں۔ کمپنی نے فضائی ٹکٹوں پر 3 لاکھ روپے سے زائد خرچ کیے اور اومان میں رہائش، خوراک اور کپڑوں کا انتظام بھی کیا، تاہم سونے یا الیکٹرانک اشیاء جیسے ذاتی نقصان کا معاوضہ ثبوت کے بغیر ممکن نہیں ہوگا۔ متاثرہ ملاحوں کو ایک سرکاری سماعت میں بھی پیش ہونا ہوگا تاکہ وہ اپنے بیانات درج کرا سکیں۔
اس واقعے نے انہیں شدید ذہنی صدمے سے دوچار کر دیا ہے اور کئی افراد نے سمندری ملازمت چھوڑنے کی خواہش ظاہر کی ہے ۔ ایک ملاح نے بتایا کہ یہ اس کی پہلی ملازمت تھی اور اس واقعے کی یاد اسے سونے نہیں دیتی۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنی جان بچ جانے کو نئی زندگی سمجھتے ہیں اور اب صرف اپنے گھروں کو واپس جا کر اپنے اہل خانہ سے ملنا چاہتے ہیں، جو مالی مشکلات کے باعث ممبئی نہیں آ سکتے ۔