ورلڈ یلڈرلی ڈے
حیدرآباد ۔ 21 اگست (سیاست نیوز) بالغ افراد اکثر ان کے سوچنے کی صلاحیتوں کے بارے میں فکرمند ہوتے ہیں۔ وہ کبھی کسی بل ادا کرنے کو بھول جاتے ہیں یا کسی اپائمنٹ کو یاد رکھنا یا کسی مشہور شخصیت کا نام بھول جاتے ہیں۔ عمر کے ساتھ تھوڑاسا بھولنے کی عادت ہوجاتی ہے اور یہ دماغی عدم کارکردگی کا اشارہ نہیں ہوتی ہے۔ عمر کے ساتھ ہونے والی یہ ہلکی بھولنے کی عادت روزمرہ سرگرمیوں پر اثرانداز نہیں ہوتی جیسے کوکنگ، ڈرائیونگ، گھر کا راستہ معلوم کرنا یا فون کا استعمال کرنا۔ تاہم، بعض عمررسیدہ لوگوں میں بھولنے اور سوچنے کی صلاحیت ایسی ہوسکتی ہے جس کی وجہ ان کی روزمرہ کی سرگرمیوں پر منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ اس مرحلہ پر، عناہت (Dementia) کے امکان پر غور کرنے کی ضرورت ہوتی ہے اور کسی نیورولوجسٹ کی رائے لینی ہوتی ہے۔ وقت اور مقام کے بارے میں الجھن، مشہور مقامات میں کھوجانا، وہی سوال بار بار پوچھنا، کسی سمت میں جانے میں مشکل پیش آنا، خود کا اچھی طرح خیال نہ رکھنا ایسی باتیں ہیں جس سے Dementia کا امکان ہوسکتا ہے۔ یہ علامتیں بتدریج بڑھ سکتی ہیں جس سے شخص مکمل طور پر معمولی کاموں کیلئے بھی جیسے نہانے، کھانے یا کپڑے تبدیل کرنے کیلئے بھی دوسروں پر انحصار کرنے لگتا ہے۔
ڈاکٹر سندیپ نیانی، کنسلٹنٹ نیوروفزیشن نے کہا کہ ’’ایسی کئی تدابیر ہیں جس سے عمر رسیدہ لوگوں میں دماغی صحت کو برقرار رکھا جاسکتا ہے اور یادداشت میں کمی یا عناہت کا تدارک ہوسکتا ہے۔ اچھی غذا کا استعمال، پابندی سے جسمانی سرگرمیاں، ذہنی طور پر سرگرم رہنا اور جذباتی رابطوں کو برقرار رکھنا ایک اچھی دماغی صحت کیلئے اہم ہیں‘‘۔