نئی دہلی : اتر پردیش میں مبینہ تبدیلی مذہب معاملے میں گرفتار افراد سے متعلق جمعیت علماء ہند کے صدرمولانامحمود مدنی نے کہاکہ جمعیت علماء ہند عمرگوتم ودیگر کی پیروی کریگی۔ محمود مدنی کاکہناہے کہ ہرشخص کو عدالت میں اپنا موقف پیش کرنیکاحق حاصل ہے۔یہی وجہ ہے کہ عمر گوتم کے بیٹے عبداللہ عمر کی سفارش پر جمعیت علماء عدالت میں پیروی کریگی۔واضح ہو کہ اے ٹی ایس نے عمرگوتم ودیگر کو چندروز قبل گرفتار کیاتھا۔اور اب اس معاملے کی این آئی اے جانچ کرسکتی ہے۔عمر گوتم کی بیٹی نے کہا کہ میرے گھر پر میرے چچا میرے اور کزن بھائی آتے ہیں، لیکن کبھی انہیں مذہب اسلام اپنانے کے لئے نہیں کہا گیا۔ میرے والد نے ہمیشہ انسانیت اور کیریئر کے بارے میں بات کی ہے۔ میں سو سے زیادہ ایسے لوگوں کے نام بتا سکتی ہوں، جو کہیں گے کہ انہوں نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا ہے۔
تبدیلی مذہب معاملے میں اہم ملزم بنائے گئے عمر گوتم کی بیٹی نے سامنے آکر وضاحت پیش کی ہے۔ نیوز 18 سے ایکسکلوزیو بات چیت میں عمر گوتم کی بیٹی نے کہا کہ ان کے والد پوری طرح بے قصور ہیں۔ وہ صرف ان لوگوں کی ڈاکیومینٹیشن میں مدد کرتے تھے، جو اپنا مذہب تبدیل کرنا چاہتے تھے۔ عمر گوتم کی بیٹی نے مانا کہ ترغریب دینی والی تقریر ان کے والد ضرور دیتے تھے، لیکن کسی کے ساتھ زور زبردستی نہیں کی گئی۔ جہاں تک غیر ملکی فنڈنگ کی بات ہے تو کچھ قریبی رشتہ دار زکوکا پیسہ لوگوں کی مدد کرنے کے لئے دیتے تھے۔ عمر گوتم کی بیٹی نے اس بات کو بھی مسترد کیا کہ نوئیڈا کے بہرے لوگوں کا مذہب تبدیل کرایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ صرف مترجم ان کو لے کرآئے تھے۔ ڈاکیومنٹیشن ایفیڈیویٹ کے لئے مدد چاہتے تھے۔ میرے والد نے کبھی ان کو کال نہیں کیا اور نہ ہی وہ ان کے رابطے میں تھے۔