عمران پر قاتلانہ حملہ کے بعد پاکستان میں احتجاجی مظاہرے

   

اسلام آباد : پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں نے فائرنگ کیاس واقعہ کو عمران خان پر قاتلانہ حملہ قرار دیتے ہوئے اس کی ایف آئی آر وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کے خلاف درج کروانے کا اعلان کیا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے حکومت مخالف لانگ مارچ کے دوران فائرنگ کے نتیجے میں عمران خان اور ان کے ساتھیو ں کے زخمی ہونے کے واقعہ کے خلاف ملک گیر احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے۔ متعدد شہروں میں پی ٹی آئی کے کارکنان سڑکوں پر نکل آئے اور انہوں نے حکومت مخالف نعرے بازی کی اس کے ساتھ ساتھ کئی مقامات سے سے جلاؤ گھیراؤ اور سڑکیں بلاک کرنے کی اطلاعات بھی موصول ہوئیں۔ فائرنگ کے اس واقعہ کے خلاف چاروں صوبائی دارلحکومتوں کے علاوہ تمام بڑے شہروں میں احتجاج کیا گیا۔ عمران خان کے ایک اتحادی اور عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے اپنے رد عمل میں کہا کہ عمران خان پر حملہ، ملک میں خانہ جنگی شروع کروانے کی سازش ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی ہیکہ وہ قانون کو ہاتھ میں نہ لیں۔عمران خان اور ان کے ساتھیوں پر فائرنگ کے واقعہ کی ہر مکتبہ فکر کی طرف سے مذمت کی جا رہی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے بھی چیرمین پی ٹی آئی و سابق وزیراعظم عمران خان پر قاتلانہ حملے کی مذمت کی۔ ٹویٹر پر اپنے ایک پیغام میں شہباز شریف نے لکھا کہ پی ٹی آئی چیرمین عمران خان پر فائرنگ کے واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہوں۔شہباز شریف نے یہ بھی کہا کہ ملکی سیاست میں تشدد کی کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیے اور یہ کہ انہوں نے وفاقی وزیر داخلہ سے اس واقعہ کی فوری رپورٹ طلب کر لی ہے۔
تحریک انصاف کا مطالبات کی منظوری تک ملک گیر احتجاج کا اعلان
اسلام آباد : ملک کے وفاق کی سب سے بڑی حزب اختلاف پارٹی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی ) نے چیرمین عمران خان کا مطالبہ پورا ہونے تک ملک گیر احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کردیا۔پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل اسد عمر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کہا کہ آج نماز جمعہ کے بعد پورے ملک میں احتجاج ہوگا۔ جب تک عمران خان کا مطالبہ پورا نہیں ہوتا ملک گیر احتجاج جاری رہے گا۔گزشتہ روز عمران خان پر فائرنگ کے واقعہ کے بعد اسد عمر نے ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ عمران خان نے وزیراعظم شہبازشریف، وزیرداخلہ رانا ثنا اللہ اور ایک فوجی افسر کو واقعہ کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے تینوں کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔پی ٹی آئی نے ان تینوں لوگوں کو عہدوں سے ہٹانے تک ملک گیر احتجاج کرنے کا اعلان کیا تھا۔