عوام سے بطور چالانات 31 کروڑ کی وصولی، سڑک پر رنگولی !

   

ٹریفک پولیس کا معظم جاہی مارکٹ چوراہے پر کورونا ڈیزائین
حیدرآباد: لاک ڈاؤن کے سبب پریشان روزگار سے محروم مدد معاشی کے متلاشی شہریوں کو کورونا کے قہر نے جہاں ان کی کمر توڑدی ہے اب بچی کچی ہمت جرمانوں سے پوری ہورہی ہے ۔ لاک ڈاؤن پر سختی سے عمل کی دعویدار پولیس نے جرمانوں سے تاحال 35 کروڑ کے نشانہ کو عبور کردیا ہے ۔ ایک طرف شہریوں میں شعور بیداری کے نام پر سڑکوں کو رنگا جارہا ہے تو دوسری طرف جرمانوں سے رنگولی کھیلی جارہی ہے ۔ شہر کا دانشور طبقہ ان دنوں معاشی بدحالی کا شکار عوام اور سرکاری طرز عمل پر تشویش کا اظہار کر رہا ہے اور پولیس کے طرز عمل پر تشویش کی جارہی ہے ۔ عہدہ کو بچانے سیاسی قائدین آقاؤں کو خوش کرنے جس طرح اقدام کرتے ہیں اور الزامات کی پرواہ نہیں کر کے عین اسی فارمولے پر پولیس بھی عمل کے الزامات کا سامنا کر رہی ہے ۔ حکومت کو خوش کرنے عوام کے جذبات کی کوئی پرواہ نہیں کی جارہی ہے ایسی ہی کچھ باتیں ان دنوں سماج میں گشت کر رہی ہیں تاکہ موجودہ عہدہ پر مزید کچھ عرصہ برقراری کے علاوہ آئندہ بڑی بڑا عہدہ حاصل کیا جا سکے۔ شہر کے کوتوال حالیہ اقدامات کے بعد ایسے ہی الزامات اور عوامی برہمی کے دائرے ہیں ۔ شہر میں شعور بیداری کے نام پر سڑکوں پر پینٹنگ کو ایک گوشہ کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے اور پینٹنگ پر خرچ کو بے جا استعمال سے تعبیر کیا جارہا ہے ۔ شہریوں کی بڑی تعداد لاک ڈاؤن اور کورونا کے سبب معاشی بدحالی کا شکار ہے اور روزگار سے محروم ہوچکی ہے ۔ کل تک جو دوکاندار تھے اب وہ مزدوری پر مجبور ہوگئے ہیں ۔ اخراجات کی پابجائی کیلئے نرمی کے اوقات تلاش معاش میں گھروں سے نکل رہے ہیں اور جرمانوں کی نظر ہورہے ہیں۔ اس بات سے انکار نہیں کہ پولیس مستعدی سے کام کر رہی ہے لیکن غیر معمولی مستعدی نے پولیس کو بدنام بھی کیا ہے ۔ لاٹھی کا استعمال نہ کرنے رسواء نہ کرنے اور دلسوزی نہ کرنے کے احکام نظر انداز کئے جارہے ہیں ۔ مجبور شہریوں کو پیر پڑنے پر مجبور کیا جارہا ہے اور لاٹھی سے زخمی کیا جاتا ہے ۔ ایک طرف مستعدی تو دوسری طرف شعور بیداری سڑکوں پر پینٹنگ رنگولی سے شہریوں کی زندگی کو بپے رنگ کیا جارہا ہے ۔ لاک ڈاؤن پر عمل کے معاملہ میں پولیس بارہا عوامی تعاون کا اظہار کرچکی ہے لیکن سختی کے دوران سنگ دلی کا کوئی جواز نہیں جو خود پولیس کی ساکھ اور حکام بالا کی کاوشوں پر کاری ضرب بن گیا ہے۔ روزگار سے محروم روزی روٹی کیلئے پریشان شہریوں کو مشکل حالات میں سہارا دینے کی بجائے ،ان پر جرمانوں سے ز ندگیوں کو اجیرن کرنے کے مترادف ہے ۔ ان حالات میں مثبت اقدام سے صحت مند سماج کی تعبیر کیلئے ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے جو پریشان حال عوام کیلئے سہارا کا سبب نہیں۔