ملک بھر میں تمام طبقات کا احتجاج، سی پی آئی کی سہ روزہ کانفرنس سے خطاب
حیدرآباد ۔24۔ فروری (سیاست نیوز) سی پی آئی کے قومی جنرل سکریٹری ڈی راجہ نے مودی حکومت کے شہریت ترمیمی قانون کو مخالف مسلم اور مخالف دلت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں اور دلتوں کو نشانہ بنانے کے لئے یہ قانون وضع کیا گیا ہے ۔ مسلمانوں کے علاوہ غریب اور کمزور طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد متاثر ہوں گے ۔ ڈی راجہ منچریال میں سی پی آئی کی تین روزہ تنظیمی کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ متنازعہ قانون کے خلاف ملک بھر میں عوام بلا لحاظ مذہب و ملت احتجاج کر رہے ہیں لیکن مودی حکومت عوامی جذبات کا احترام کرنے سے قاصر ہے۔ حکومت قانون کے بارے میں عوامی رائے حاصل کرنے تیار نہیں۔ ڈی راجہ نے کہا کہ حکومت پر تنقید کرنے والوں کے خلاف سنگین دفعات کے تحت مقدمات دائر کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو درپیش سنگین مسائل سے توجہ ہٹانے کیلئے متنازعہ قوانین کا سہارا لیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاشی شعبہ میں حکومت بری طرح ناکام ہوچکی ہے۔ ڈی راجہ نے کہا کہ دستور اور جمہوری اصولوں کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے لیکن افسوس کہ سنگھ پریوار کے ایجنڈہ کے مطابق مودی حکومت کام کر رہی ہے۔ سی پی آئی کے قومی سکریٹری ڈاکٹر کے نارائنا نے کہا کہ شہریت قانون کے خلاف مسلمانوں کے احتجاج کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش کی جارہی ہے۔ حالانکہ یہ قانون غیر دستوری ہے۔ مذہب کی بنیاد پر حکومت کو شہریت دینے کا اختیار نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مخالف شہریت قانون احتجاج میں مسلمانوں کے علاوہ دیگر مذاہب کے ماننے والے شامل ہیں۔ مذہب کی بنیاد پر عوام کو تقسیم کرنے کیلئے شہریت قانون وضع کیا گیا۔ سی پی آئی کی قومی عاملہ کے رکن عزیز پاشاہ سابق رکن راجیہ سبھا نے کہا کہ سی پی آئی ملک کو مذہب کی بنیاد پر تقسیم کرنے کی اجازت نہیں دے گی ۔ سنگھ پریوار ، ہندو راشٹرا کا منصوبہ رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو احتجاج کا حق حاصل ہے۔ سی پی آئی کے ریاستی سکریٹری چاڈا وینکٹ ریڈی نے پارٹی قائدین اور کارکنوں پر زور دیا کہ عوامی مسائل پر جدوجہد کریں۔
