سری نگر: جموں وکشمیر نیشنل کانفرنس کے سرپرست اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے بدھ کے روز کہا کہ ہندوستان کا آئین ہر ایک مذہب ، طبقے اور خطے سے تعلق رکھنے والے عوام کو یکساں حقوق کی ضمانت دیتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ملک کے ہر ایک باشندے کو دو وقت کی روٹی کمانا اور امن و سکون کے ساتھ اپنی زندگی بسر کرنے کا حق حاصل ہے اور ہر ایک حکومت پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ عوام کو یہ حقوق میسر رکھے ، اسی میں ملک کی سالمیت اور آزادی کا راز مضمرہے ۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ 2019میں جموں وکشمیر کے عوام کے آئینی حقوق زبردستی سلب کئے گئے جبکہ 2018 سے یہاں کے عوام جمہوری حقوق سے بھی محروم ہیں۔انہوں نے کہاکہ جموں وکشمیر کے عوام کو گذشتہ4 برسوں سے عوامی منتخبہ حکومت سے محروم رکھا گیا ہے اور نئی دلی کا یہ رویہ کسی بھی صورت میں سود مند نہیں۔اُن کے مطا بق جو لوگ کہتے ہیں کہ 2019 میں دفعہ 370اور 35اے کے خاتمے کے بعد تعمیر وترقی ہوئی اور لوگ بااختیار ہوئے ، وہ نہ صرف ملک کے عوام کو گمراہ کررہے ہیں بلکہ اپنی ارد گرد جھوٹ کی عمارتیں کھڑے کررہے ہیں اور زمین حقائق تسلیم کرنے سے کترا رہے ہیں۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے پارٹی سے وابستہ تمام لیڈران، عہدیداران اور کارکنان پر زور دیا کہ وہ اپنے اپنے علاقے کے لوگوں خصوصاً 18سال سے زیادہ عمر کے نوجوانوں کو ووٹر فہرست میں اپنا نام درج کرنے کی ترغیب دیں کیونکہ حق رائے دہی سے ہی ہم اُن منصوبوں اور سازشوں کو ناکام بنا سکتے ہیں جن کا مقصد یہاں کی انفرادیت، اجتماعیت ، شناخت اور مذہبی رواداری کو پارہ پارہ کرناہے ۔