عوام کو لوٹنے ٹرانسکو کی نئی حکمت عملی!

   

برقی بلوں کی اجرائی میں تاخیر کے ذریعہ صارفین کو دوگنی بل ادائیگی پر مجبور کرنے کی سازش
حیدرآباد۔ تلنگانہ اسٹیٹ سدرن پاؤر ڈسٹریبیوشن کمپنی لمیٹیڈ کی جانب سے عوام کو ٹھگنے اور ادارہ کی آمدنی میں اضافہ کو یقینی بنانے کی غرض سے برقی بلوں کی اجرائی میں تاخیر کی جا رہی ہے یا پھر برقی بلوں کی اجرائی میں تاخیر کیلئے میٹر ریڈنگ کے لئے پہنچنے والا عملہ ذمہ دار ہے۔ریاستی حکومت لاک ڈاؤن کے بعد سے برقی بلوں کے سلسلہ میں اٹھائے جانے والے سوالات سے پیچھا چھڑا رہی ہے لیکن ٹی ایس ایس پی ڈی سی ایل کی جانب سے لوٹ کھسوٹ کے لئے نت نئے طریقہ اختیار کئے جانے لگے ہیں جو کہ عوام کو لوٹنے کی منظم سازش محسوس کی جانے لگی ہے۔ریاستی حکومت کی جانب سے عوام کو اس بات کا تیقن دیا جا رہاہے کہ ریاست کے عوام پر حکومت کی جانب سے کوئی بوجھ عائد نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے لیکن ٹی ایس ایس پی ڈی سی ایل کی جانب سے بلوں کی اجرائی میں کی جانے والی 3تا7 یوم کی تاخیر دوگنی برقی بل ادا کرنے کیلئے مجبور کرنے لگی ہے۔ریاستی حکومت کی جانب سے کئے جانے والے اقدامات کے سلسلہ میں کہا جار ہاہے کہ ریاستی حکومت نے محکمہ برقی کو اپنے طور پر آمدنی میں اضافہ کے اقدامات کرنے کا مشورہ دیا ہے ۔ٹی ایس ایس پی ڈی سی ایل کی جانب سے بھاری بلوں کی اجرائی معمول کی شکایت ہے لیکن اب جو شکایات موصول ہونے لگی ہیں ان کے مطابق برقی بل کی اجرائی میں تاخیر کے ذریعہ فی یونٹ برقی کی قیمت میں اضافہ کیا جارہا ہے اور عوام کو جاری کئے گئے بل ادا کرنے کے لئے مجبور کیا جانے لگا ہے۔شہر حیدرآباد کے کئی علاقوں سے اس بات کی شکایات موصول ہوئی ہیں کہ انہیں ان کے مہینہ کے بل کی اجرائی کے بجائے 33یا 40 دن کا برقی بل جاری کیا جا رہاہے اور جیسے ہی مہینہ میں اضافہ ہوتا ہے تو ایسی صورت میں فی یونٹ برقی کی قیمت بھی تبدیل ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے انہیں بھاری برقی بل موصول ہونے لگے ہیں۔اس طرح کے بلوں کے سلسلہ میں شکایت کی بھی مہلت فراہم کرنے سے عہدیداروں کا انکار کیا جارہا ہے اور کہا جارہا ہے کہ صارفین پہلے مکمل بل ادا کریں اس کے بعد ان کی شکایت کا جائزہ لیا جائے گا ۔مہینہ میں برقی کے استعمال کے اعتبار سے برقی یونٹ سلاب کے مطابق بل جاری کیا جا تا ہے لیکن برقی بل کی اجرائی مہینہ کے بجائے 40 یوم میں کی جائے گی تو سلاب تبدیل ہوجائے گا اور سلاب کی تبدیلی کے سبب مستعملہ برقی یونٹ کی قیمت میں بھاری اضافہ ہوجائے گا اور یہ بل ادا کرنا صارف کی ذمہ داری ہوگی جبکہ بل کی اجرائی میں تاخیر کیلئے وہ ذمہ دار نہیں ہے۔