بعض ارکان اسمبلی فارم ہائوسس چلے گئے، مصیبت کی اس گھڑی میں کارپوریٹرس بھی ووٹرس کیلئے دستیاب نہیں
حیدرآباد۔ گریٹر حیدرآباد میں گزشتہ دو ہفتوں کے دوران کورونا کے کیسس میں غیر معمولی اضافہ اور اموات کو دیکھتے ہوئے عوام میں خوف و دہشت کا ماحول ہے۔ مرض سے اموات کی تعداد سرکاری طور پر اگرچہ کم دکھائی جارہی ہے لیکن شہر میں سوشل میڈیا کے ذریعہ روزانہ اموات کی جو اطلاعات مل رہی ہیں وہ تشویش کا باعث ہیں۔ ان حالات میں حکومت نے شہر میں دوبارہ لاک ڈائون کے نفاذ کی تیاری کرلی ہے تو دوسری طرف عوام کورونا سے نمٹنے میں خود کو غیر محفوظ تصور کرنے لگے ہیں۔ بحران اور مصیبت کی اس گھڑی میں منتخب عوامی نمائندوں نے بھی عوام کا ساتھ چھوڑ دیا ہے۔ شہر کے ارکان پارلیمنٹ، ارکان اسمبلی اور حتی کہ کارپوریٹرس بھی کورونا کے خوف کا شکار دکھائی دے رہے ہیں اور انہوں نے اپنے ووٹرس کو وائرس کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے۔ عام حالات میں عوامی نمائندے کسی نہ کسی بہانے عوام کے درمیان آکر سوشل میڈیا اور اخبارات کے ذریعہ اپنی کارکردگی پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن ایسے وقت جبکہ عوام کو عوامی نمائندوں کے سہارے کی ضرورت ہے عوامی نمائندوں نے اپنی ذمہ داری نبھانے کے بجائے خود کو وائرس سے بچانے کے لیے محفوظ مقامات منتقل ہوچکے ہیں۔ پرانے شہر کے اسمبلی حلقہ جات میں روزانہ اموات کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ اگرچہ یہ اموات کورونا وائرس سے زیادہ کورونا کے خوف کے سبب دکھائی دے رہی ہیں
لیکن ان حالات میں عوام کو تسلی اور ڈھارس دینے والا کوئی نہیں ہے۔ عوامی نمائندوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے ووٹرس کے درمیان پہنچ کر انہیں کورونا وائرس کے خوف سے نجات دلائیں اور انہیں احتیاطی تدابیر کے بارے میں واقف کرائیں۔ لیکن عوامی نمائندے خود عام آدمی سے زیادہ کورونا سے خائف دکھائی دے رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق کئی ارکان اسمبلی اور کارپوریٹرس نے خود کو اور اپنے اہل و عیال کو کورونا سے بچانے کے لیے شہر کے مضافاتی علاقوں میں فارم ہائوسس منتقل ہوچکے ہیں۔ پرانے شہر میں عوام کورونا کی علامات کا شکار اپنے رشتہ داروں کو دواخانوں سے رجوع کرنے کے بارے میں پریشان ہیں۔ سرکاری اور خانگی ہاسپٹلس میں بستروں کی کمی کا بہانہ بنایا جارہا ہے۔ ایسے میں ارکان اسمبلی اور کارپوریٹرس اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے عوام کی مدد کرسکتے ہیں۔ پرانے شہر میں علاج کی موثر سہولتیں دستیاب نہیں ہیں۔ اس کے علاوہ گھر میں علاج کی صورت میں آکسیجن کے سیلنڈرس کا ملنا دشوار ہوچکا ہے۔ سیلنڈرس کے سپلائرس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہزاروں روپئے وصول کررہے ہیں۔ آکسیجن کا بڑا سلینڈر 17 ہزار جبکہ چھوٹا 12 ہزار روپئے میں فروخت کیا جارہا ہے۔ وائرس کے خوف سے سپلائرس نے کرائے پر دینا بند کردیا ہے اور سلینڈر کو فروخت کررہے ہیں۔ گیاس کی ری فیولنگ کے لیے بھی بھاری رقم وصول کی جارہی ہے۔ ان حالات میں عام آدمی بالخصوص غریب اور متوسط طبقات پریشانی کے عالم میں عوامی نمائندوں کو ڈھونڈ رہے ہیں لیکن انہیں یہ جان کر مایوسی ہورہی ہے کہ عوامی نمائندے خود محفوظ پناہ گاہوں میں منتقل ہوچکے ہیں۔ پرانے شہر کے بڑے قبرستانوں میں روزانہ کم از کم 10 میتیں آرہی ہیں۔ ان حالات میں عوام کے درمیان ان کے منتخب نمائندوں کی موجودگی انتہائی ضروری تھی تاکہ عوام کے دلوں سے کورونا کے خوف کو نکالا جاسکے۔ طبی ماہرین اور ڈاکٹرس کا کہنا ہے کہ زیادہ تر اموات وائرس سے زیادہ وائرس کے خوف سے ہورہی ہیں۔ وائرل فیور، سردی، کھانسی اور زکام کا شکار ہوتے ہی لوگ کورونا کے خوف میں مبتلا ہورہے ہیں۔ حالانکہ یہ وبائی مرض کی علامتیں ہیں جس پر گھر میں علاج کے ذریعہ بآسانی قابو پایا جاسکتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ پرانے شہر کے عوام میں وائرس کی حقیقی علامات کے بارے میں شعور بیدار کیا جائے اور انہیں وبائی بخار اور دیگر عوارض کے علاج کا انتظام کیا جائے۔