ویکسین کے تعلق سے کئی غلط فہمیاں اور شکوک و شبہات ۔ حکومت ، سماج، خود عوام کی معلومات کا بڑا رول ۔ علما ء و دانشوروں کا کردار اہم ہوگیا
نئی دہلی : پوری دنیا بالخصوص ہندوستان میں کورونا وائرس سے جاری تباہی نے شکوک، غیر یقینی اور عدم تحفظ کی جو صورتحال پیدا کردی ہے، اس سے نکلنا نا ممکن نہیں تو بہت مشکل ضرور نظر آتا ہے۔ تاہم امید اور یقین ہی انسان کا سہارا بھی ہے۔ کورونا کے سبب اقتصادی نقصانات اپنی جگہ ہیں لیکن جانی نقصانات اور تباہ کار یوں کا ازالہ نا ممکن ہے۔ میڈیکل سائنس سے لے کر سیاسی، سماجی اور مذہبی بلکہ یوں کہا جائے کہ زندگی کے سبھی محاذوں پر لوگ انسانی جانوں کو بچانے کی کوششوں میں مصروف ہیں اور اس کے لئے تحقیقات بھی بدستور جاری ہیں۔ احتیاطی تدابیر جاری ہیں اور ان کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن دنیا کے اہم وائرولوجسٹ، ڈاکٹرز اور ماہرین کیمیا اس خیال کا اظہار کر رہے ہیں کہ اس جان لیوا وئرس سے بچنے کا واحد اور موثر علاج صرف ویکسین ہے جو ہر فرد کے لئے لازمی ہے۔ اسے ملک کی بدنصیبی کہا جائے، جہالت اور توہم پرستی سے تعبیر کیا جائے ،منفی سیاست کا حربہ قرار دیا جائے یا ارباب حکومت کے رویے اور کارفرمائی کا لا زمی نتیجہ کہ لوگ ویکسی نیشن یا ٹیکہ اندازی کے تعلق سے غلط فہمیوں کا شکار ہو گئے ہیں، بلکہ کوویڈ ویکسین سے متنفر اور خوف زدہ نظر آتے ہیں۔ اس حوالے سے شہروں اور دیہات کے منظر نامے ایک دوسرے سے خاصے مختلف ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ لوگوں میں بیداری نہ ہونے اور علم کے فقدان کے سبب مضافاتی منظر نامہ افسوسناک ہی نہیں بلکہ تشویشناک بھی ہے۔ دیکھا جا رہاہے کہ متعدد مقامات بالخصوس مضافاتی علاقوں میں ویکسی نیشن کے سلسلہ میں پہنچنے والے میڈیکل اسٹاف کو مخالفت اور ناراضگی کا سامنا ہی نہیں بلکہ لوگوں کے غم و غصے کا شکار بھی ہونا پڑا ہے۔ لوگوں کی غلط فہمیاں اور شکوک و شبہات دور کرنے کیلئے حکومت کی طرف سے کوششیں کی جارہی ہیں اور مذہبی رہنماؤں اور ڈاکٹروں کی جانب سے بھی اعلانات کئے جارہے ہیں۔ مولانا خالد رشید نے اس ضمن میں شرعی حوالے پیش کرتے ہوئے مہلک وائرس سے نجات کیلئے ویکسی نیشن کو لازمی قرار دیا۔ انھوں نے اسلامک سنٹر میں حکومت کی مدد سے باقاعدہ ایک ویکسی نیشن سنٹر بھی قائم کرانے میں تعاون کیا۔ اس پیش رفت کا بنیادی سبب یہی تھا کہ لوگ مذہبی بنیادوں پر ویکسی نیشن سے دور نہ جاسکیں۔ معروف شیعہ عالم دین مولانا کلب جواد نقوی، مولانا سیف عباس اور مولانا علی حسین قمی نے بھی ویکسی نیشن میں تعاون کرنے لوگوں سے درخواست کی ہے۔ اسی طرح کی درخواستیں ڈاکٹر کوثر عثمان، ڈاکٹر سلمان خالد اورکئی اہم ڈاکٹروں نے بھی کی ہیں۔ اہم بات یہ بھی ہے کہ کچھ دانشوروں اور صحافیوں نے جس انداز سے اپنے خیالات کا اظہار کیا، اس سے محسوس ہوتا ہے کہ سرکاری سطح پر پہلے لوگوں کو یقین حاصل کرنے ، دیہات اور مضافات میں بیداری مہمات چلانے سے صورتحال بہتر ہوسکتی ہے۔ معروف سماجی و ملی رہنما سید بلال نورانی کہتے ہیں کہ سیاسی قائدین اور بالخصوص بر سر اقتدار پارٹی کے قائدین نے گزشتہ چند سال میں لوگوں سے اتنے جھوٹ بولے ہیں کہ اب لوگوں کو ان کی صحیح بات پر بھی یقین مشکل سے ہوتا ہے۔ عدم لتحفظ کے احساس زندہ انسانوں اور نعشوں کی بے حرمتی ،مسلسل ٹوٹتے وعدوں اور خوابوں کے سبب حکومت پر سے ان کا یقین اٹھ گیاہے۔