بی آر ایس ۔ کانگریس اور بی جے پی کی مہم میں اہم رول ۔ کانگریس نے پوری مستعدی کے ساتھ وار روم کی حکمت عملی پر عمل کیا
حیدرآباد 29 نومبر ( سیاست نیوز ) ہندوستان میں انتخابات انتہائی شدت سے لڑے جاتے ہیں۔ سیاسی جماعتیں اور امیدوار عوام کو رجھانے اور ان کی تائید حاصل کرنے مسلسل جدوجہد کرتے ہیں۔ عموما یہ سمجھا جاتا ہے کہ سیاسی جماعتیں اور امیدوار ہر روز عوام کے درمیان پہونچتی ہیں۔ انہیں اپنے منصوبوں سے واقف کرواتی ہیں۔ اپنے کارنامے گنواتی ہیں۔ آئندہ کیلئے منشور جاری کرتی ہیں۔ عوام سے ملاقاتیں کی جاتی ہیں۔ عوام کی رائے پر اثر انداز ہونے کیلئے ریلیاں منعقد کی جاتی ہیں۔ جلسے کئے جاتے ہیں۔ روڈ شو کا اہتمام کرکے اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا جاتا ہے اور پھر پولنگ کا دن آ پہونچتا ہے اور عوام اپنی مرضی سے ووٹ ڈالتے ہیں۔ تاہم اس ساری انتخابی گہما گہمی اور رسہ کشی کے پیچھے ایک ایسی جامع منصوبہ بندی اور حکمت عملی ہوتی ہے جو عوام کی نظروں سے اوجھل ہوتی ہے ۔ آج کے دور میں اسے انتخابی مہم کی ریڑھ کی ہڈی کہا جاتاہے ۔ اصل انتخاب عوام یا عوامی حلقوں میں لڑے جاتے ہیںلیکن ان کی منصوبہ بندی اور ساری حکمت عملی کا تعین چند پیشہ ور ماہرین ایک کمرے میں بیٹھ کر کرتے ہیں جسے آج کی ٹکنالوجی کی دنیا میں ’ وار روم ‘ کا نام دیا جاتا ہے ۔ تلنگانہ اسمبلی انتخابات کیلئے بھی تینوں اہم جماعتوں بی آر ایس ‘ کانگریس اور بی جے پی کی جانب سے وار رومس قائم کرکے اپنی انتخابی مہم کو زیادہ سے زیادہ ووٹرس تک پہونچانے ‘ پارٹی کے منشور اور ضمانتوں کی تشہیر کرنے اور سینئر قائدین و اسٹار کیمپینرس کے پروگرامس طئے کرنے ‘ ان کے دوروں کے مقامات کا تعین کرنے اور ان کی تقاریر کے اہم نکات کا تعین کیا ہے ۔ بی آر ایس کے وار روم سے پارٹی کی حکمت عملی کے تحت سرکاری اسکیمات کو عوام تک پہونچایا گیا ۔ پارٹی منشور کی تشہیر کی گئی اور چیف منسٹر کے سی آر ‘ ریاستی وزراء کے ٹی آر ‘ ٹی ہریش راؤ اور دوسروں کے دوروں اور پروگرامس کو قطعیت دی گئی ۔ یہیں سے سوشیل میڈیا مہم بھی چلائی گئی اور منفرد انداز کے اشتہارات بنائے گئے۔ اس میں عام عوام کے علاوہ حیدرآبادی فلمی اداکاروں کی خدمات حاصل کی گئیں۔ بی آر ایس کے اشتہار میں حیدرآبادی اسٹار عزیز ناصر کو استعمال کیا گیا جن کے ویڈیوز کو تقریبا 12 تا 15 لاکھ افراد نے ملاحظہ کیا ۔ وہیں کانگریس پارٹی نے انتہائی منظم انداز میں وار روم حکمت عملی اور سرگرمیاں چلائیں۔ کانگریس وار روم کی ذمہ داری مہروز خان نے نبھائی ۔ ان کی سرپرستی جناب منصور علی خان نے کی جبکہ اس وار روم میں جملہ 200 افراد نے رات دن کام کرتے ہوئے کانگریس کے منشور کو اور پارٹی کی چھ ضمانتوں کو عوام تک موثر انداز میں پہونچایا ۔ گاوں ‘ دیہات ‘ شہر اور ٹاؤنس کا مکمل احاطہ کیا گیا ۔ماجد شطاری بھی وار روم کا سرگرم اور اہم حصہ رہے ۔ اس وار روم سے جہاں پارٹی کی اعلی قیادت سے بوتھ سطح کے ایجنٹس تک کے درمیان رابطوں و اشتراک کو یقینی بنایا گیا وہیں پارٹی کے صدر ملکارجن کھرگے ‘ راہول گاندھی ‘ پرینکا گاندھی ‘ صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی ‘ ریاست اور مرکز کے دوسرے مرکزی اور اہم قائدین کے علاوہ اسٹار کیمپینرس تک کے پروگرامس کو انتہائی منظم انداز میں ڈسیپلن کے ساتھ کسی رکاوٹ کے بغیر چلایا گیا ۔ بیرونی مبصرین کے دوروں و پروگرامس کو کامیابی سے مکمل کیا گیا ۔ بیرونی مبصرین کو حلقے الاٹ کئے گئے ۔ مقامی کارکنوں و قائدین سے انہیں مربوط کیا گیا ۔ اس کے علاوہ دیگر ریاستوں کے اقلیتی قائدین کی ایک بڑی ٹیم کو ملک کی مختلف ریاستوں سے مدعو کرتے ہوئے اقلیتی غلبہ والے حلقوں میں موثر ڈھنگ سے مہم چلائی گئی ۔ ہر پارلیمنٹ حلقہ کیلئے ایک بڑے لیڈر کو اور ہر اسمبلی حلقہ کیلئے ایک ذمہ دار لیڈر کو متعین کیا گیا ۔ ان سے رپورٹس لی گئیں۔ انہیں ضروری ہدایات جاری کی گئیں۔ عوام میں چھ ضمانتوں کی تشہیر پر بہت زیادہ توجہ کے ساتھ اسے گھر گھر تک پہونچایا گیا ۔ وار روم کی سرگرمیوں نے ریاست میں کانگریس کی مہم کو پرجوش بنانے میں اہم رول ادا کیا گیا ۔ کانگریس نے سوشیل میڈیا پر منفرد اور عوام کو راغب کرنے اشتہارات جاری کئے ۔ حیدرآبادی اسٹار گلودادا پر فلماتے ہوئے ایک تشہیری ویڈیو جاری کیا گیا ۔ اس ویڈیو کو 60 لاکھ افراد نے مشاہدہ کیا ۔ وار روم سے کانگریس کی مہم کے ذریعہ بی آر ایس حکومت کے ان وعدوں کا بھی تذکرہ کیا گیا جو پورے نہیں ہوئے ۔ ان میں 12 فیصد مسلم تحفظات ‘ مساجد کی شہادت اور بی آر ایس حکومت کی ناکامیوں کو اجاگر کیا گیا ۔ جناب منصور علی خان سکریٹری انچارج تلنگانہ کانگریس نے بتایا کہ وہ گذشتہ 6 ماہ سے تلنگانہ میں کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے تمام حلقوں پر توجہ کے ساتھ مہم چلائی ہے ۔ عوام کا بہترین رد عمل حاصل ہوا ہے ۔ عوام میں حکومت مخالف لہر بہت زیادہ دیکھی گئی اور کانگریس کو یقین ہے کہ وہ یہاں شاندار اکثریت سے اقتدار حاصل کریگی ۔ علاوہ ازیں بی جے پی نے بھی وار روم حکمت عملی پر کام کیا ۔ اس کی سرگرمیاں 2019 سے شروع ہوچکی تھیں۔ اس نے 32000 بوتھس کی نشاندہی کرکے کارکنوں کو سرگرم کیا تھا اور اسٹار کیمپینرس و مرکزی قائدین کو لمحہ آخر میں سرگرم کرکے ووٹ شئیر میںاضافہ کی کوشش کی ۔