عوام کے ذہنوں پر کورونا وائرس کا خوف طاری، مائنڈ اسپیس میں بھگدڑ جیسی صورتحال

,

   

ایک آئی ٹی ملازم کے متاثر ہونے کی اطلاع پرآئی ٹی کمپنیوں میں سنسنی کی فضاء ، مہیندرا ہلز میں بعض اسکولس بند

سکندرآبادکنٹونمنٹ بورڈ کے تحت
3 اسکولوں کو غیر معینہ مدت کی تعطیلات،
ماسک کی قلت ،قیمتوں میں بھاری اضافہ

حیدرآباد۔/4 مارچ، ( سیاست نیوز؍این ایس ایس)ریاست تلنگانہ بالخصوص حیدرآباد میں عوام کے ذہنوں پر کورونا وائرس سے پیدا شدہ خوف و اندیشوں کی گرفت میں مزید شدت پیدا ہوگئی ہے حالانکہ ریاست میں تاحال صرف ایک مریض کی باضابطہ توثیق ہوئی ہے۔ دیگر دو مشتبہ مریضوں کے معائنے گاندھی ہاسپٹل میں مثبت پائے جانے کے بعد پونے کی لیباریٹری سے رجوع کئے گئے ہیں۔ ہائی ٹیک سٹی میں آج دن میں ڈرامائی صورتحال دیکھی گئی جہاں’ مائنڈ اسپیس ‘ بلڈنگ میں ایک ملازم کے کورونا وائرس سے متاثر ہونے کی اطلاع پھیل گئی اس کے ساتھ ہی ساری عمارت میں بھگدڑ جیسی صورتحال پیدا ہوگئی۔ ملازمین خوف و دہشت کی حالت میں ادھر اُدھر دوڑنے لگے اور کچھ ہی دیر میں عمارت کا تخلیہ کا کردیا گیا اور ملازمین کو گھر جاکر اپنا کام جاری رکھنے کی ہدایت کی گئی۔٭ قریب واقع ایک اور آئی ٹی کمپنی کوال کام میں بھی تقریباً ایسی ہی صورتحال دیکھی گئی جہاں ملازمین میں خوف و ہراسانی کی لہر دوڑ گئی۔ رہیجا مائنڈ اسپیس کامپلکس کے اطراف تمام مرد و خواتین ماسک پہنے ہوئے نظر آئے اور کچھ چہروں پر دستی باندھ رکھے تھے۔٭ سکندرآباد کے مہیندرا ہلز میں چہارشنبہ کو چند اسکولس احتیاطی تدابیر کے طور پر بند رہے کیونکہ اس علاقہ کا ایک نوجوان گزشتہ روز کورونا وائرس سے متاثر پایا گیا جو گاندھی ہاسپٹل میں زیر علاج ہے۔٭ سکندرآباد کنٹونمنٹ بورڈ کے تحت کم از کم تین بڑے خانگی اسکولوں نے احتیاطی تدابیر کے طور پر غیر معینہ مدت کیلئے تعطیلات کا اعلان کردیا ہے۔٭کورونا وائرس سے بچنے کیلئے شہر اور ریاست میں بڑے پیمانے پر این ۔95 ماسک کا استعمال کیا جارہا ہے جس کے نتیجہ میں چہرے پر لگائے جانے والے ان ماسک کی قلت پیدا ہوگئی ہے تو دوسری طرف قیمتوں میں بھاری اضافہ ہوا ہے۔ شہر کے میڈیکل اسٹورز پر عام دنوں میں عموماً دو تین سو ماسک فروخت کئے جاتے تھے لیکن اب یومیہ ہزاروں ماسکس فروخت کئے جانے لگے ہیں۔ ماسک کی مانگ میں اضافہ کے ساتھ قیمتیں بھی بڑھادی گئی ہیں۔ان ماسکس کی قیمت پہلے پانچ روپئے ایک عدد تھی جو اب 20 روپئے ایک عدد ہوگئی ہے۔