عیدالفطر مسلمانوں کیلئے انعام و اکرام کا دن

   

نوجوانوں کو حصول تعلیم پر زور، عیدگاہ گنبدان قطب شاہی میں مولانا سید متین علی شاہ قادری کا خطاب

حیدرآباد 23 اپریل (راست) مسلمانوں کے لئے عیدالفطر انعام و اکرام کا دن ہے۔۔اس روز اللہ بزرگ و برتر مسلسل ایک ماہ تک روزہ، تلاوت قرآن، اذکار اور عبادات الہی میں سر بسجود رہنے والے بندوں کی بخشش فرماتا ہے۔۔ان خیالات کا اظہار مولانا قاری سید متین علی شاہ قادری خطیب عیدگاہ گنبدان قطب شاہی گولکنڈہ نماز عید سے قبل عید کے کثیر اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔۔انھوں نے کہا کہ عید ایک طرف پیار و محبت ، اتحاد و اتفاق، آپسی بھائی چارہ کے ساتھ خوشیوں کو مل جل کر منانے کا پیغام دیتی ہے وہیں دوسری طرف رنج و غم کو بھول جانے اور آپسی رنجشوں کو ختم کرتے ہوئے نفرت و کدورت کی خلیج کو قربت و محبت میں بدل دینے کا درس دیتی ہے۔۔یہ عید غریب پریشان حال و مفلس بھائیوں کی دلجوئی اور غمخواری کا ذریعہ بھی ہے۔۔انھوں نے نوجوانوں پر زور دیاکہ وہ تعلیم کے حصول کو یقینی بنا ے اس لئے کہ اسلام نے تعلیم کی بڑی اہمیت دی ہے۔۔ اللہ نے اپنے حبیب آخری نبی الزماں صلی علیہ وسلم پر قران کی پہلی آیت و پہلی وحی کی ابتداء اقراء یعنی پڑھنے سے کی ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ موجودہ ترقی یافتہ دور و ماحول میں علم و تعلیم کو گر اپنایا جاے تو اس کے ذریعہ دنیا اور آخرت میں سرخروء و کامیابی حاصل ہوگی۔مولانا سید متین علی شاہ قادری نے موجود ماحول اور شادیوں میں ہر دو کی جانب سے کیے جانے والے خرافا ت و بے جا اسراف پر اظہار تاسف کیا اور کہا کہ مسلمان اپنے اپنے لڑکیوں و لڑکوں کی شادیوں کو سنت نبوی کے مطابق ادا کریں اس لئے کہ یہ عمل سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پر ہے جب کہ اس سنت میں دکھاوا نمود و نمائش پیدا ہوگیا اس لئے ضروری ہے کہ مسلمان اس سے دور رہیں۔آج کئی لڑکیاں اور لڑکوں کی جانب سے بے جا رسومات اور جہیز کے بڑھتے ہوئے مطالبات کی وجہ سے ان کی عمریں حد سے تجاوز ہورہی ہیں وہ اپنے اپنے گھرانوں میں بن بیاہی بیٹھی ہوئی ہیں جو امت مسلمہ کے لئے لمحہ فکر ہے۔انھوں نے نوجوانوں پر زور دیاکہ تجارت کو اپنایں اور اسے فروغ دیں اس لئے کہ تجارت میں برکت پوشیدہ ہے اور یہ طریقہ سنت نبوی ہے۔۔مولانا سید متین پاشاہ نے مسجد اقصی جو کہ اسے جلد از جلد اسرائیل کے چنگل سے آزاد کروانے کے ساتھ مسجد اقصی کی بازیابی اور مظلوم فلسطنیوں کے حق میں رخت انگیز دعائیہ کلمات میں کہے ، دعائیہ کلمات میں انھوں نے اس بات کا اظہار کیا کی بہت جلد مسجد اقصی غاصب صیہونیوں سے آزاد ہوگی۔ غلام محی الدین خان پاشاہ بھائی نے ابتدا میں خیرمقدم کیا اور کہا کہ آپسی اتحاد و اتفاق سے ہی کامیابی و کامرانی ممکن ہے جب کہ انتشار و اختلاف میں ناکامی و شکست ہے۔