بہتر انداز سے پکانے پر وائرس کا خاتمہ ، سارس کی تحقیق میں انکشافات
حیدرآباد۔4جون(سیاست نیوز) تیار غذائی اشیاء سے کورونا وائرس پھیلنے کے کوئی امکانات نہیں ہیں اور جو غذائیں تیار کی جاتی ہیں ان غذائوں میں اگر وائرس موجود بھی رہا ہو تو باقی نہیں رہتا۔ امریکی ادارہ سی ڈی سی کے علاوہ کئی اداروں کی جانب سے اس بات کی توثیق ہوچکی ہے اور کہا جا رہاہے کہ جو غذائیں 56تا65 ڈگری سیلسیس پر پکائی جاتی ہیں ان میں وائرس باقی رہنے کے کوئی امکانات نہیں ہیں اور نہ ہی ان میں وائرس باقی رہنے کی کوئی گنجائش ہے کیونکہ SARS وائرس کے علاوہ SAR-Cov-2 کے متعلق تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ غذاء کی تیاری کے دوران اگر ضروری اشیاء پر وائرس موجود بھی ہوتا ہے تو وہ غذاء کے استعمال کرنے والے کو متاثر نہیں کرتا اور نہ ہی اس میں وائرس کے اثرات باقی رہتے ہیں۔ ماہرین کا کہناہے کہ جس طرح بیکٹیریا اور دیگر جراثیم شکم میں داخل ہونے کے بعد فوت ہوجاتے ہیں کیونکہ وہ پیٹ کے اندر پائی جانے والی گرمی کو برداشت کرنے کے متحمل نہیں ہوتے اسی طرح کورونا وائرس کے جراثیم بھی پکوان اور پیٹ کی گرمی کو برداشت کرنے کے متحمل نہیں ہیں۔ سی ڈی سی کے علاوہ دیگر کئی امریکی یونیورسٹیوں کے علاوہ تحقیقی ادارہ جات نے اس بات کی توثیق کی ہے ۔ کورونا وائرس سے محفوظ رہنے کیلئے لازمی ہے کہ تیار غذائی اشیاء کو سلیقہ اور صفائی کے ساتھ لیجایا جائے اور غذائی پیاکٹس وصول کرنے سے پہلے ہاتھوں کی صفائی کرلیں اور غذائی اشیاء لانے کے بعد ہاتھوں کو مکمل طور پر دھولیں۔ ان اداروں کی جانب سے اس بات کی بھی توثیق ہوچکی ہے کہ تاحال غذاء کے ذریعہ کورونا وائرس کے پھیلنے کا کوئی ثبوت نہیں ہے بلکہ کورونامتاثرین کے چھینکنے کے علاوہ ان کی جانب سے ہاتھ لگائی گئی اشیاء کو چھونے سے یہ مرض پھیل رہا ہے۔