فلاحی اسکیمات پر 45000 کروڑ کا خرچ، چیف منسٹر کے سی آر کا بیان
حیدرآباد۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے کہا کہ متحدہ آندھرا پردیش میں تلنگانہ کا علاقہ غذا کی قلت اور فاقہ کشی کی صورتحال سے دوچار تھا لیکن علحدہ ریاست کی تشکیل کے بعد حکومت نے مختصر وقت میں تلنگانہ کو ملک کے رائس باول میں تبدیل کرنے کیلئے کئی اقدامات کئے ہیں۔ چیف منسٹر نے ورلڈ فوڈ سیفٹی ڈے کے موقع پر اپنے پیام میں کہا کہ تلنگانہ کو انا پورنا اسٹیٹ میں تبدیل کرنے کی مساعی کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو تغذیہ بخش غذا بشمول گوشت ، انڈے اور مچھلی کی فراہمی کیلئے حکومت کی جانب سے کئے گئے اقدامات کے بہتر نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ اسی طرح ریاستی حکومت بھیڑ بکریوں کی افزائش کی اسکیم پر عمل پیرا ہے۔ پھلوں اور سبزیوں کی پیداوار کی حوصلہ افزائی کی جارہی ہے جس سے ریاست کے عوام کو محفوظ غذا مل رہی ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ حکومت کی جانب سے غذائی اشیاء میں ملاوٹ پر قابو پانے کیلئے سخت ترین قدم اٹھائے جارہے ہیں۔ حکومت نقلی بیج، کھاد اور کیڑے مار ادویات کی سربراہی پر قابو پانے کیلئے سخت قدم اٹھارہی ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ ریاست میں شوگر کے معاملات میں اضافہ کو پیش نظر رکھتے ہوئے حکومت نے تلنگانہ سونا کے نام سے چاول کی ایک قسم کو متعارف کرایا ہے اور ریاست بھر میں اس کی کاشت کی حوصلہ افزائی کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت عوام کی صحت اور تندرستی کو یقینی بنانے کیلئے ہر ممکن اقدام کررہی ہے۔ چیف منسٹر نے مزید کہا کہ بہت کم وقت میں ریاست تلنگانہ میں 2 کروڑ ایکر زرخیز اراضیات کو تیار کیا جاسکا ہے جن پر دو قسم کی فصلوں کی کاشت کی جارہی ہے۔ تلنگانہ نے 3 کروڑ میٹرک ٹن اناج کی پیداوار کے ذریعہ اول مقام حاصل کیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر مسرت کا اظہار کیا کہ ریاست نے نہ صرف غذائی تحفظ حاصل کیا بلکہ قومی سطح پر غذائی تحفظ کا ایک ذریعہ بن گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کالیشورم پراجکٹ کے علاوہ دیگر آبپاشی پراجکٹس کی تعمیر اور مشن کاکتیہ کے تحت تالابوں کی بحالی کے ذریعہ دھان کی پیداوار میں تلنگانہ نے پہلا مقام حاصل کیا ہے۔ کورونا وباء کے دوران بھی تلنگانہ کے کسانوں کی جانب سے کاشت کی گئی فصلوں نے ملک میں غذائی تحفظ کے حصول میں مدد کی ہے۔ حکومت فلاحی اسکیمات پر 45000 کروڑ خرچ کررہی ہے۔ غذائی اجناس کی فراہمی اور ریاست کے ہر فرد کو بھوک سے نجات دلانے کیلئے حکومت نے راشن کارڈز ہولڈرس کو فی کس 6 کیلو چاول کے حساب سے گھر کے تمام افراد کو چاول فراہم کررہی ہے۔ 87 لاکھ 41 ہزار خاندانوں کے جملہ 2 کروڑ 79 لاکھ 27 ہزار افراد کو ہر سال ایک روپیہ فی کیلو گرام کے حساب سے جملہ 20 لاکھ میٹرک ٹن چاول دیا جاتا ہے۔ حکومت پر مذکورہ اسکیم سے فی کیلو 28.24 روپئے سبسیڈی کے حساب سے 2088 کروڑ کا بوجھ عائد ہورہا ہے۔ طلبہ کو ہاسٹلس میں اعلیٰ معیار کا چاول دیا جارہا ہے۔ چیف منسٹر نے بتایا کہ ریاست میں راشن کارڈ پورٹیبلٹی اسکیم متعارف کی گئی تاکہ راشن کارڈ ہولڈرس ریاست میں کہیں بھی اپنا راشن حاصل کرسکیں۔