کرایہ کی ادائیگی سے قاصر افراد کی مدد کرنے کانگریس کا چیف منسٹر سے مطالبہ
حیدرآباد۔ 3 جون (سیاست نیوز) کانگریس پارٹی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ لاک ڈائون سے پریشان حال غریب اور متوسط خاندانوں سے 6 ماہ تک برقی اور آبرسانی کے بل وصول نہ کیئے جائیں اور انہیں معاف کرنے کے احکامات جاری کریں۔ کانگریس رکن اسمبلی جگاریڈی نے آج میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ لاک ڈائون کے نتیجہ میں غریب اور متوسط طبقات بری طرح متاثر ہوئے ہیں اور اس بات کی کوئی ضمانت نہیں ہے کہ صورتحال بہت جلد تبدیل ہوجائے گی۔ کورونا کے واقعات میں دن بہ دن اضافہ ہورہا ہے ایسے میں حکومت کو پریشان حال خاندانوں کی مدد کے لیے آگے آنا چاہئے۔ کانگریس پارٹی غریبوں کی مدد کے سلسلہ میں بارہا حکومت سے نمائندگی کرچکی ہے۔ صنعتی اداروں اور تجارتی اداروں میں بڑے پیمانے پر ملازمین کی تخفیف کردی ہے جس سے غریب اور متوسط خاندان معاشی پریشانیوں کا شکار ہوچکے ہیں۔ چیف منسٹر کے سی آر کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے پارٹی نے دیہی اور شہری علاقوں میں ایک ماہ کا مکان کا کرایہ حکومت کی جانب سے ادا کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ چھ ماہ تک برقی اور آبرسانی کے بل معاف کئے جائیں۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ شہری علاقوں میں کرایہ داروں کو ماہانہ 15 ہزار روپئے کی امداد دی جائے۔ عوام قرضہ جات کی اقساط کی ادائیگی کے سلسلہ میں فکر مند ہیں۔ لہٰذا چھ ماہ تک اقساط کی وصولی روک دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ آبرسانی بلس کم از کم ایک سال کے لیے معاف کئے جائیں تاکہ عوام دیگر ضروریات کی تکمیل کرسکیں۔ جگاریڈی نے اعلان کیا کہ اگر ان مطالبات کو تسلیم نہیں کیا گیا تو وہ 9 جون کو قیام گاہ پر ایک روزہ بھوک ہڑتال کریں گے۔ حکومت معاشی بحران کا دعوی کررہی ہے جبکہ کالیشورم پراجیکٹ کے لیے 25 ہزار کے ٹنڈرس طلب کئے گئے۔ انہوں نے چیف منسٹر اور بی جے پی کے درمیان خفیہ سمجھوتے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ مرکز اور ریاستی حکومتیں باہم مل کر عوامی مسائل نظرانداز کررہی ہیں۔