آخر سرکاری انگلش میڈیم اسکولس کی مخالفت کیوں؟ چیف منسٹر کی عوام سے اٹوٹ وابستگی کی وجہ کانگریس اور بی جے پی کو بوکھلاہٹ
سنگاریڈی ۔ مسٹر ٹی ہریش راو وزیر فینانس و صحت نے کلکٹریٹ سنگاریڈی میں ضلع کے اراکین پارلیمنٹ اور اسمبلی کے ساتھ ضلع میں دلت بندھو اور ہمارا گاوں ہمارا اسکول اسکیم پر جائزہ اجلاس منعقد کیا جس میں بی بی پاٹل ایم پی ظہیرآباد’ مانک راو’ بھوپال ریڈی’ جگا ریڈی’ کرانتی کرن اراکین اسمبلی منجو شری چیرمین ضلع پریشد’ ہنمنت راو کلکٹر اور دیگر موجود تھے۔ اجلاس کے بعد مسٹر ٹی ہریش راو وزیر فینانس و صحت نے پریس کانفرنس کو مخاطب کرتے ہوے کہا کہ چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر نے ریاست کے دلتوں کی ترقی کے لیے دلت بندھو جیسی انقلابی اسکیم کا آغاز کیا ہے جس کے تحت ہر دلت خاندان کو معاشی طور پر خود مکتفی بنانے دس لاکھ روپیہ فراہم کئے جائنگے۔ دلت بندھو کا ریاست بھر میں آغاز ہو چکا ہے اور ضلع سنگاریڈی کے تمام اسمبلی حلقہ جات میں اس پر عمل آوری ہوگی۔ ابتداء طور پر ہر اسمبلی حلقہ سے ایک سو دلت استفادہ کنندگان کا انتخاب کیا جائگا۔ فروری کے پہلے ہفتہ تک مستحقین کی فہرست تیار کرلی جائے گی اور ماہ مارچ میں لون کی تقسیم عمل میں آئے گی۔ آئندہ بجٹ میں دلت بندھو کے لیے بھاری بجٹ مختص کرتے ہوے اس پر بڑے پیمانے پر عمل کیا جائگا۔ ریاست تلنگانہ کے تمام سرکاری اسکولس کو بہتر بنانے اور انگلش ذریعہ تعلیم شروع کرنے حکومت نے 7 ہزار 8 سو بیس کروڑ روپیہ سے ہمارا گاوں ہمارا اسکول پروگرام شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انھوں نے بنڈی سنجے ریاستی صدر بی جے پی پر تنقید کرتے ہوے کہا کہ بنڈی سنجے جھوٹ کا سہارا لیکر ریاستی عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تلنگانہ حکومت نے گزشتہ ساڑھے سات سال میں ایس سی اور بی سی طبقات کی فلاح و بہبود کے لیے فی کس 24 ہزار کروڑ روپیہ خرچ کئے جبکہ کانگریس نے اپنے دس سالہ دور میں چھ ہزار کروڑ روپیہ خرچ کیا۔ تلنگانہ حکومت نے تاحال ایک لاکھ 32 ہزار 899 سرکاری ملازمتوں بشمول 8792 ٹی آر ٹی ٹیچرس’ 11,500 گروکل ٹیچرس کا تقرر کیا۔ ریاست میں گروکل اور اقامتی اسکول کے اساتذہ کے علاوہ سرکاری اسکولس میں ایک لاکھ تین ہزار 657 ٹیچرس ہیں جو رائٹ ٹو ایجوکیشن قانون کے مطابق ہے۔ تلنگانہ حکومت نے میڈیکل کالجس کو چار سے بڑھاکر 17 کردیا۔ 296 اقامتی اسکولس میں ایک لاکھ 45 ہزار طلبا و طالبات زیر تعلیم تھے تشکیل تلنگانہ کے بعد حکومت نے اقامتی اسکولس میں اضافہ کرتے ہوے 914 اسکولس کردیا جس میں اب چار لاکھ 37 ہزار طلباء زیر تعلیم ہے۔ 53 اقامتی ڈگری کالجس قائم کئے گئے۔ 3800 بی سی’ ایس سی اور ایس ٹی طلباء کو بیرون ملک اعلیٰ تعلیم کے لیے فی کس بیس لاکھ روپیہ جاری کئے گئے۔ غریب لڑکیوں کی شادی کے لیے کلیان لکشمی اسکیم شروع کی گئی اور تاحال 10 لاکھ لڑکیوں کی شادی کے لیے فی کس ایک لاکھ 116 روپیہ منظور و جاری کئے گئے۔ رائتو بندھو کے تحت اب تک 50 ہزار کروڑ کی امداد کسانوں کو جاری کی گئی۔ ضلع سنگاریڈی کے تین لاکھ 16 ہزار سے زائد کسانوں کو ہر زرعی موسم میں 370 کروڑ روپیہ جاری کئے جا رہے ہیں۔ تلنگانہ حکومت سماج کے ہر طبقہ کی خوشحالی کے لیے کام کر رہی ہے جس کی وجہ سے چیف منسٹر کے سی آر پر عوام کا اعتماد مزید اٹوٹ ہوگیا اس پر بی جے پی اور کانگریس بوکلاہٹ کا شکار ہوگئے اور غلط بیانی میں مصروف ہے۔ انھوں نے کانگریس اور بی جے پی سے سوال کیا کہ آخر کیوں انگلش میڈیم اسکولس کی مخالفت کر رہے ہیں۔ کیا غریب اور پسماندہ طبقات کے بچے انگلش میڈیم میں نہیں پڑھنا چاہئے۔ تلنگانہ حکومت سرکاری اسکولس کو کارپوریٹ اسکولس کے طرز پر ترقی دیگی اور غریب طلباء کو معیاری تعلیم فراہم کرتے ہوے مسابقتی دوڑ میں لا کھڑا کردیگی۔ انھوں نے کہا کہ بی جے پی پارٹی کارپوریٹ اداروں کی ہمنوا جماعت ہے اسی لیے ملک کے بہترین اثاثہ اور کمپنیاں و اداروں کو فروخت کر رہی ہے۔ ریاستی بی جے پی قائدین میں ہمت ہے تو وہ اپنی مرکزی حکومت سے کہہ کر ملکی سطح پر دلت بندھو، تلنگانہ کے لیے اسٹیل فیکٹری، ریلوے کوچ فیکٹری، ٹرائبل یونیورسٹی مائننگ یونیورسٹی اور 21 نوودیا اسکولس منظور کروائیں۔ مسابقتی امتحانات کو علاقائی زبان میں منعقد کرنے کی اجازت دلوائیں۔ بی جے پی نے ہر سال دو کروڑ نوکریاں دینے کا وعدہ کیا تھا اس پر قرطاس ابیض جاری کریں۔ مرکزی حکومت میں 15 لاکھ 62 ہزار مخلوعہ جائدادیں ہیں ان کو پر کیا جاے تلنگانہ کے بی جے پی کے ایم پی یہ کام کروائیں ناکہ غیر ضروری طور پر تلنگانہ حکومت پر تنقید کی جاے۔ پریس کانفرنس میں چٹی دیوندر ریڈی چیرمین ڈی سی سی بی چنتا پربھاکر سابق رکن اسمبلی سنگاریڈی اور دیگر موجود تھے۔