اندرا پریہ درشنی گورنمنٹ ڈگری کالج میں سمینار سے ادبا و دانشوروں کا خطاب
حیدرآباد ۔ 24 ۔ فروری : ( پریس نوٹ) : اردو اکیڈیمی ریاست تلنگانہ ادیبوں ، و شعراء کی ہمت افزائی کے ساتھ اب نصابی کتب کی تیاری کا بھی بیڑا اٹھایا ہے ۔ انٹر میڈیٹ اور ڈگری کالج کی نصابی کتب کی تیاری کا آغاز ہوچکا ہے ۔ ان خیالات کا اظہار ڈائرکٹر سکریٹری اردو اکیڈیمی ڈاکٹر محمد غوث نے اندرا پریہ درشنی گورنمنٹ ڈگری کالج نامپلی کے دو روزہ قومی سمینار کے اختتامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ٹکنالوجی کی ترقی کی وجہ سے کتابیں بھی آج انٹر نیٹ پر دستیاب ہیں جس کی وجہ سے کتب بینی کرنے والوں کی تعداد دن بہ دن کم ہورہی ہے ۔ لیکن اس طرح کے سمینار آج کی ضرورت ہے جس سے طلباء کو اپنا مواد جمع کرنے کے لیے کافی مدد ملتی ہے ۔ اس سمینار کا انعقاد کالج کے اردو شعبہ کی جانب سے 19 اور 20 فروری کو کیا گیا تھا ۔ سمینار کا افتتاحی اجلاس 19 فروری کو ڈاکٹر ڈی ورا لکشمی پرنسپل کی صدارت میں منعقد ہوا ۔ پرنسپل نے افتتاحی تقریر میں کہا کہ اردو زبان ایک بین الاقوامی زبان ہے اور یہ بہت ہی شیرین زبان ہے ۔ انہوں نے اپنی تقریر کا آغاز و اختتام اشعار کے ذریعہ کیا جس پر سامعین میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ۔ افتتاحی اجلاس کا کلیدی خطبہ دیتے ہوئے پروفیسر بیگ احساس نے کہا کہ خاتون فکشن نگاری میں اولیت دکن کو حاصل ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ صغرا ہمایوں مرزا کا لکھا ہوا افسانہ سرگزشت ہاجرہ خواتین کی فکشن نگاری کا پہلا نقش ہے ۔ خواتین ادباء نے ابتداء اپنی اصلاح سے شروع کی تھی لیکن وہ اب اپنے آپ کو منوا چکی ہیں اور مرکزیت حاصل کرچکی ہیں ۔ پروفیسر ایس اے شکور نے اپنے خطاب میں کہا کہ ماضی کے بہ نسبت موجودہ دور میں فکشن پر زیادہ کام ہورہا ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ خواتین کے کام کو باہر لانے کی ضرورت ہے اور ماضی کی طرح بین کلیاتی ادبی مقابلے منعقد کرنے کی ضرورت ہے ۔ ڈاکٹر معید جاوید صدر شعبہ اردو عثمانیہ یونیورسٹی نے کہا کہ افسانہ اردو ادب کی تہذیب کی لاج ہے ۔ پروفیسر فاطمہ پروین نے اپنے خطاب میں ادب کی ترقی و ترویج کے لیے اساتذہ کو اپنی قابلیت و صلاحیت بڑھانے پر زور دیا ۔ قمر جمالی نے بحیثیت فکشن نگار اس سمینار میں شرکت کرتے ہوئے کہا کہ حیدرآباد ہمیشہ ادب کا گہوارہ رہا ہے جس میں شاعری ہو فکشن و غیر فکشن اس معاملہ میں بہت امیر ہے ۔ نفیسہ خاں نے بتایا کہ ان کے افسانوں کا پس منظر و کردار ماحول کے اطراف و اکناف کے ہوتے ہیں ۔ ڈاکٹر میمونہ بیگم کے شکریہ کے ساتھ ہی افتتاحی اجلاس کا اختتام عمل میں آیا ۔ پروفیسر مجید بیدار نے اختتامی اجلاس میں خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موضوع کا دائرہ جتنا محدود ہوگا تحقیق و تنقید کا معیار اتنا ہی بلند ہوگا ۔ اختتامی اجلاس کو سید ظہور الدین منیجر سکندرآباد کوآپریٹیو بینک نے بھی مخاطب کیا اور طالبات سے کہا کہ آگے بڑھنے اور اپنے اندر کے تخلیق کار کو نکالنے کے لیے خوب محنت و لگن سے کام لیں ۔ اختتامی اجلاس کے بعد مشاعرہ کا انعقاد عمل میں آیا ۔ جس میں مدعو شعراء جلیل نظامی ، شاہد عدیلی ، محبوب خاں اصغر ، ضامن علی حسرت ، ڈاکٹر عطیہ مجیب عارفی ، ڈاکٹر حمیرہ سعید ، تجمل تاج اور خوشبو پروین نے کلام سنایا ۔ کنوینر سمینار محمد وحید الدین نے شکریہ ادا کیا ۔۔