واشنگٹن : اسرائیل کے ہاتھوں غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی کے بعد امریکی صدر بائیڈن نے کہا ہے کہ دو ریاستی حل کی جانب بڑھتے ہوئے غزہ اور مغربی کنارے کو نئے سرے سے بحال شدہ فلسطینی اتھارٹی کے ماتحت ایک ہونا چاہیے۔امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ میں شائع اپنے مضمون میں امریکی صدر نے اس سوال کا جواب دینے کی کوشش کی ہے کہ حماس اسرائیل جنگ کے خاتمے کے بعد امریکہ یا اقوام متحدہ مسئلہ فلسطین کیلئے کیسا حل چاہتے ہیں۔امریکی صدر نے لکھا کہ ہم سب امن کیلئے کوششیں کر رہے ہیں، اور بلآخر غزہ اور مغربی کنارے کو دوریاستی حل کیلئے بحال شدہ ایک ہی گورننس اسٹرکچر کے تحت متحد ہونا چاہیے۔انہوں نے لکھا کہ غزہ سے فلسطینیوں کا جبری انخلا نہیں ہونا چاہیے، دوبارہ قبضہ، محاصرہ، ناکہ بندی یا فلسطینی علاقوں میں کسی بھی قسم کی کوئی کمی نہیں ہونی چاہیے۔امریکی صدر نے غزہ میں مکمل جنگ بندی کے اپنے دیرینہ مؤقف پر قائم رہتے ہوئے غزہ میں مکمل جنگ بندی کے مطالبات کو ایک بار پھر مسترد کرتے ہوئے لکھا کہ اسرائیل اور فلسطین کے لوگوں کیلئے دیرپا امن کے قیام کا واحد راستہ دو ریاستی حل ہے جس کیلئے امریکہ اور اس کے اتحادیوں سمیت اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے کمٹمنٹ بہت ضروری ہے۔
امریکہ کی حزب اللہ سے تعلق رکھنے والے افراد پر پابندیاں
واشنگٹن: امریکی محکمہ خارجہ نے سید الشہدا بریگیڈز اور اس کے سیکرٹری جنرل ہاشم فنیان رحیم السراجی کو خصوصی طور پر نامزد عالمی دہشت گرد قرار دیتے ہوئے بلیک لسٹ کر دیا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے ایک بیان میں کہا کہ سید الشہدا بریگیڈز کی دہشت گردانہ کارروائیوں نے عراق اور شام میں داعش کو شکست دینے کے لیے امریکا اور بین الاقوامی اتحاد کے ارکان کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیا۔بلنکن نے وضاحت کی اس وقت محکمہ خزانہ نے پابندیوں کی فہرست میں ایران کی اتحادی کتائب حزب اللہ ملیشیا سے تعلق رکھنے والے چھ افراد کو شامل کیا ہے۔