نیویارک: سینکڑوں فلسطینی حامی مظاہرین جمعرات کو نیویارک کی سڑکوں پر نکل آئے اور اسرائیل کی جانب سے غزہ پٹی پر مسلسل اور شدید بمباری کے خلاف ایک مظاہرے میں فرضی جنازہ نکالا۔فوری جنگ بندی کا مطالبہ کرنے والے کارکنان بینرز اٹھائے ہوئے مین ہٹن کے برائنٹ پارک میں جمع ہو گئے جبکہ کچھ نیویارک کے مڈ ٹاؤن ڈسٹرکٹ کے قلب میں مصروف مقام سکستھ ایونیو کے وسط میں مختصر وقت کیلئے کھڑے رہے۔ ساحلی علاقے میں لڑائی کے نتیجے میں بچوں پر ہونے والے اثرات کی نمائندگی کرنے کیلئے سیاہ کپڑوں میں ملبوس کئی خواتین نے سفید کپڑوں میں لپٹی ہوئی کھلونا گڑیا اٹھا رکھی تھیں۔فرضی جنازے کا جلوس نیویارک کے مشہور ٹائمز اسکوائر کی طرف روانہ ہوا جہاں ایک پس منظر کے طور پر بڑے الیکٹرانک اشتہارات کے ساتھ احتجاج جاری رہا۔
64 سالہ آرکائیوسٹ گریس لِل نے کہا کہ آج کی کارروائی اس حقیقت کی طرف توجہ مبذول کروانے کے لیے ہے کہ اب تک غزہ میں تقریباً 10,000 بچے، صرف بچے، ہم ہر ایک کو شمار نہیں کرتے، تمام فلسطینیوں کو شمار نہیں کرتے، اپنی جان سے جا چکے ہیں۔