غزہ : غزہ میں سرکاری میڈیا آفیس نے ایک اعلامیہ میں کہا ہے کہ صیہونی اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں ایک اور فلسطینی صحافی حمزہ عبدالرحمن مرتضیٰ شہید ہوگئے ہیں۔ ان کی شہادت کے بعد، غزہ کی پٹی میں جاری نسلی صفائی کے دوران شہید ہونے والے صحافیوں کی تعداد 170 تک پہنچ گئی ہے۔غزہ شہر کے مغرب میں واقع مصطفی حافظ اسکول پر اسرائیلی فوج کی بمباری میں حمزہ مرتضیٰ سمیت 10 شہری شہید اور درجنوں زخمی ہوئے ہیں۔حمزہ مرتضیٰ متعدد میڈیا اداروں کے ساتھ فوٹوگرافر اور صحافی کے طور پر کام کر چکے ہیں۔ وہ سینئر صحافی یاسر مرتضیٰ کے بھائی تھے، جو 6? اپریل 2018 کو شہر کے مشرق میں ریٹرن مارچ کی کوریج کے دوران ایک اسرائیلی اسنائپر کی گولی کا نشانہ بنے تھے۔سرکاری میڈیا آفیس نے منگل کے روز ایک پریس ریلیز میں اسرائیلی فوج کی طرف سے فلسطینی صحافیوں کو نشانہ بنانے اور ان کے قتل کی شدید مذمت کی۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس جرم کی مکمل ذمہ داری قابض و جابر اسرائیلی فوج پر عائد ہوتی ہے۔دفتر نے عالمی برادری اور صحافتی تنظیموں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیلی فوج کے جرائم کا نوٹس لیں اور فلسطینی صحافیوں کی حفاظت کو یقینی بنائیں۔
غزہ کی سرنگ سے چھ یرغمالیوں کی نعشیں بازیاب
غزہ: اسرائیلی فوج کو خان یونس کے علاقے میں جنگجوؤں سے ایک جھڑپ کے بعد ایک سرنگ سے چھ یرغمالوں کی نعشیں مل گئیں ہیں۔اس میں پانچ یرغمالوں کے متعلق اسرائیل فوج پہلے ہی یہ خدشہ ظاہر کر چکی تھی کہ وہ مر چکے ہیں۔یرغمال اور لاپتہ خاندانوں کے لیے کام کرنے والی ایک اسرائیلی تنظیم نے زور دیا ہے کہ بقیہ یرغمالوں کی رہائی کے لیے جلد از جلد جنگ بندی کا معاہدہ کیا جائے۔اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اب بھی 105 یرغمال عسکریت پسندوں کی قید میں ہیں جن میں سے ممکنہ طور پر 34 مر چکے ہیں۔