واشنگٹن: وائٹ ہاؤس میں امریکہ کی قومی سلامتی کے ترجمان جان کربی نے کہا ہے کہ غزہ میں بحری راستے سے خوراک اور امدادی سامان کی ترسیل کو ممکن بنانے کے لیے امریکی بندرگاہ مکمل ہونے کے قریب ہے اور اگلے چند دنوں میں یہ امریکی بندرگاہ استعمال میں آنا شروع ہو سکے گی۔اس عارضی اور چھوٹی بندر گاہ کی تعمیر کا آغاز ماہ مارچ میں کیا گیا تھا۔ یہ غزہ سے متصل ہے اور خاص برائے غزہ ہے۔ جس کی تعمیر کی نگرانی امریکی پینٹاگون نے کی ہے۔بتایا جارہا ہے کہ اس عارضی اور خصوصی بندرگاہ کا مقصد غزہ کی اسرائیلی ناکہ بندی کے ہوتے ہوئے بحری راستے سے غزہ میں امدادی سامان کی ترسیل ممکن بنانا ہے۔ تاہم فلسطینی مزاحمتی گروپ حماس نے اس بندرگاہ کے بارے میں مبینہ طور پر شکوک کا اظہار کر رکھا ہے۔ جبکہ اسرائیل نے اس کے بارے میں کبھی کوئی منفی بات یا ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔جان کربی نے جمعرات کو کہا کہ غزہ میں انسانی امداد کے بہاؤ کو تیز کرنے کے لیے امریکی فوج کی طرف سے تعمیر کی گئی اس بندر گاہ کو اگلے چند دنوں کے اندر خراب موسم کے باوجود کھل جانا چاہیے۔قومی سلامتی کے لیے ترجمان کا ایک نیوز بریفنگ میں کہنا تھا ‘ ہم امید کر رہے تھے کہ اس بندرگاہ کو اب کھل جانا چاہیے۔ مجھے لگتا ہے کہ یہ غزہ میں امداد کی ترسیل کے لیے اب بھی ایک امید ہے۔’