غزہ میں تقسیم کی جانے والی ’امداد‘ کو کئی مراحل سے گزرنا پڑتا ہے

   

غزہ۔ 27 مئی (ایجنسیز) اس وقت جبکہ غزہ پٹی اسرائیلی سخت محاصرہ میں ہے۔ اس میں داخل ہونے والی انسانی امداد غزہ ہیومینیٹیرین فاؤنڈیشن کی طرف سے تقسیم کیے جانے سے پہلے کئی مراحل سے گزرتی ہے۔ حال ہی میں قائم ہونے والی اور امریکہ کے زیر حمایت اس تنظیم نے اعلان کیا ہے کہ اس نے تباہ شدہ فلسطینی پٹی میں خوراک کی امداد پہنچانا شروع کر دی ہے۔اس تنظیم کی جانب سے کل جاری کی گئی تصاویر میں دکھایا گیا ہے کہ امداد سے لدے ٹرک تاروں سے گھری بستیوں میں پہنچائے جا رہے ہیں۔ خوراک کی تقسیم کا نیا طریقہ کار مسلح افراد کی حفاظت میں محدود تعداد میں مراکز تک محدود ہے۔ ان مراکز میں لوگوں کو امداد لینے کے لیے جانا پڑتا ہے۔ فی الحال چار مراکز قائم کیے جا رہے ہیں اور یہ سب اسرائیلی فوجی مقامات کے قریب ہیں۔ ان میں سے تین انتہائی جنوب میں ہیں جہاں فلسطینیوں کی تعداد کم ہے۔ تنظیم نے کہا کہ وہ ہفتے کے آخر تک دس لاکھ سے زیادہ فلسطینیوں تک پہنچنے کا ارادہ رکھتی ہے۔تنظیم ’’ غزہ ہیومینٹیرین فاؤنڈیشن‘‘ نے اعلان کیا ہے کہ اس کے پہلے چار مراکز میں سے ہر ایک مرکز تقریباً 300,000 افراد کیلئے کھانا فراہم کرے گا۔ یہ مراکز بالآخر 20 لاکھ افراد کی ضروریات پوری کر سکیں گے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ 30 دنوں کے اندر مزید مراکز قائم کریں گے اور یہ مراکز غزہ پٹی کے شمال میں بھی قائم ہوں گے۔ لیکن تنظیم نے مجوزہ نئے مراکز کے درست مقامات کا نہیں بتایا۔امدادی سامان نجی شعبے کے ٹھیکیداروں کی مدد سے پہنچایا جائے گا جو بکتر بند گاڑیوں میں سامان کو غزہ کی سرحد سے مراکز تک پہنچائیں گے اور واں بھی سیکیورٹی فراہم کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس کا مقصد مجرم گروہوں یا مسلح افراد کو امداد کا رخ موڑنے سے روکنا ہے۔
اسی دوران 10 مئی کی سیٹلائٹ تصاویر میں مراکز کی تعمیر کے کام کا بھی پتہ چلا ہے۔ ان تصاویر میں سے ایک وسطی غزہ میں نٹساریم کوریڈور کے قریب ہے جو اسرائیلی افواج کے زیر کنٹرول ایک علاقہ ہے۔ تین دیگر مراکز رفح کے علاقے میں ہیں۔ یہ موراج کوریڈور کے جنوب میں واقع ہیں۔ یہ کوریڈور فوج کے زیر کنٹرول ایک اور علاقہ ہے۔ پٹی کے زیادہ تر شہری فی الحال شمالی غزہ میں ہیں۔ انہیں رفح کے قریب مراکز تک پہنچنے کے لیے اسرائیلی فوجی سرحد عبور کرنی ہوگی۔