غزہ: نقل مکانی، ہاتھوں میں سفید پرچم اور آنکھوں کے سامنے کٹی پھٹی نعشیں

   

غزہ سٹی: تباہ شدہ گھروں کے ملبے کو چھوڑ کر فلسطینی شہری ہاتھوں میں سفید پرچم اٹھائے ہوئے جنوبی غزہ کی طرف جارہے ہیں۔ یہ سفر مصائب زدہ فلسطینیوں کا ہے ،اس لیے طویل بھی ہے اور خوفزدہ کرنے والا بھی ، راستے میں جگہ جگہ نعشوں کے سڑے ہوئے ٹکڑے بھی ہیں اور نعشیں بھی۔ ملبہ ہے اور بندوق بردار اسرائیلی فوجی اور ٹینک۔اولا الغول نے کہاکہ یہ بہت خوفناک تھا۔ جو ہم نے پورا ایک ماہ جنگ میں دیکھا۔’ ہم نے اپنے ہاتھ کھڑے کر دیے اور چلنا شروع کر دیا۔ ہم میں سے کئی ایسے تھے جنہوں نے ہاتھوں میں سفید جھنڈے پکڑے ہوئے تھے۔ غزہ 24 لاکھ فلسطینیوں کا شہر ہے۔ مگر اقوام متحدہ کے مطابق اب اس میں سے 15 لاکھ فلسطینی نقل مکانی چکے ہیں۔ عامرہ سکانی بھی انہی میں سے ایک ہیں۔ان کا کہنا ہے ‘ہم وسطی غزہ سے جنوبی غزہ کی طرف پیدل چل کر آئے ہیں۔ اندازہ نہیں تھا یہ سفر اتنا طویل اور فاصلہ لمبا ہوگا۔ راستے میں جگہ جگہ ہم نے شہدا کی نعشیں دیکھی ہیں۔ کئی نعشوں کے ٹکڑے بکھرے ہوئے تھے۔ عامرہ نے کہا کہ ہم امن چاہتے ہیں۔ ہم تھک چکے ہیں۔ بہت ہو چکا ،ہم اپنا خوشگوار مستقبل چاہتے ہیں۔
’ میرے بچوں نے جان لیا ہے کہ بم کیا ہوتے ہیں۔ ان میں سے ایک نے کہا۔ اماں یہ بہت خوفناک ہیں۔ اب مزید بمباری نہیں ہونی چاہیے۔’صحافیوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے غزہ کے نقل مکانی کرنے والوں کو بچے کھچے سامان کے ساتھ کم اور اپنے بچوں یا خاندان والوں کو لے جاتے ہوئے زیادہ دیکھا ہے۔ ان میں سے بہت سے وہیل چئیرز پر تھے۔ کچھ نے ان بچوں کو کندھوں پر بٹھا رکھا تھا۔’ھیثم نورالدین نے بھی نقل مکانی کی ہے۔ وہ کہتے ہیں یہ سب ڈرا دینے والا تھا۔ ہم اڑھائی میل چل کر یہاں جنوبی غزہ میں بوریج پناہ گزین کیمپ میں پہنچے ہیں۔ میرے ساتھ میری ماں اور خاندان کے دوسرے لوگ بھی ہیں۔ھیثم نورالدین نے کہا ہمارا گھر غزہ شہر میں الشفا ہسپتال کے قریب تھا۔ اس علاقے میں بہت زیادہ بمباری ہوئی۔ ہر طرف راستوں میں کٹی پھٹی لاشیں نظر آئیں۔’محکمہ صحت کا کہنا ہے کہ وسطی اور جنوبی غزہ میں 3600 فلسطینی جاں بحق ہوئے ہیں۔ ہلاکتوں کے حوالے سے جو چیزیں سامنے آ رہی ہیں ان سے لگتا ہے غزہ کا کوئی علاقہ بھی محفوظ نہیں رہا ہے۔یہ نقل مکانی کرنے والے حاتم ابو ریاش ہیں، ہاتھوں میں سہارا دینے والی چھڑی ہے۔ راستے میں جگہ جگہ اسرائیلی فوجیوں کو ڈرتے ہوئے دیکھتے آئے۔ اسرائیلی فوجی اور ان کے ہاتھوں میں بندوقیں، پھر آگے ٹینک ، پھر جہازوں کی گھن گرج ، جبالیہ کیمپ سے نکلنے کے بعد راستے میں یہ سب کچھ دیکھتے ہوئے آئے ہیں۔ان کا کہنا ہے’ ہم دہشت گرد نہیں ، ہم شہری ہیں۔ ہم امن سے رہنا چاہتے ہیں۔’ مگر واقعہ یہ ہے کہ غزہ کی مصیبت ختم نہیں ہوئی۔ ‘اونروا ‘ کے مطابق اب تک اقوم متحدہ کے قائم کردہ 92 پناہ گزین کیمپوں میں 550000 فلسطینی پناہ لے چکے ہیں۔ان کیمپوں میں بھی سہولیات کم ہیں اور بیماریاں پھوٹ رہی ہیں۔ ‘ اونروا ‘ کے مطابق 600 افراد ایک ٹوائلٹ استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔ ہیضے اور خسرے کی بیماریاں شروع ہو چکی ہیں۔ جلدی امراض کے مسائل اس کے علاوہ ہیں۔