یروشلم ۔ 10 اکٹوبر (ایجنسیز) غزہ کی وزارت داخلہ و قومی سلامتی نے اعلان کیا ہے کہ وہ آئندہ چند گھنٹوں میں ان علاقوں میں تعیناتی کا آغاز کرے گی جہاں سے قابض اسرائیلی فوج نے پسپائی اختیار کی ہے۔ یہ اقدام اس جامع منصوبے کا حصہ ہے جس کا مقصد نظامِ زندگی کی بحالی اور اس بدامنی و انتشار کا خاتمہ ہے جو قابض اسرائیل کی دو برسوں سے جاری نسل کش جنگ نے غزہ بھر میں پیدا کی۔وزارت داخلہ نے جمعہ کے روز اپنے بیان میں عوام سے اپیل کی کہ وہ سرکاری و خانگی املاک کا تحفظ کریں، اپنی جانوں کو خطرے میں ڈالنے والے اقدامات سے اجتناب برتیں اور سکیورٹی، پولیس و خدماتی اداروں کے اہلکاروں کے ساتھ مکمل تعاون کریں تاکہ امن و سلامتی یقینی بنائی جا سکے۔ وزارت نے شہریوں کو ہدایت کی کہ وہ آئندہ دنوں میں متعلقہ اداروں کی جانب سے جاری کی جانے والی ہدایات پر سختی سے عمل کریں۔وزارت نے جنگ بندی کے معاہدہ کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے غزہ کے بہادر اور ثابت قدم عوام کی عظیم فتح قرار دیا جنہوں نے قابض اسرائیل کی خون آشام جنگی مشن کا صبر، ایمان اور استقامت سے مقابلہ کیا۔ بیان میں کہا گیا کہ قابض اسرائیل کے ہاتھوں ایسے سنگین جرائم سرزد ہوئے جن سے انسانیت شرمسار ہے اور یہ جنگ عصرِ حاضر میں نہتے عوام کے خلاف سب سے بڑی مجرمانہ کارروائی ثابت ہوئی۔ وزارت داخلہ نے اس المناک جنگ میں شہید ہونے والے ہزاروں فلسطینیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا، زخمیوں کی جلد صحتیابی اور قابض اسرائیل کی جیلوں میں قید اسیران کی آزادی کے لیے دعا کی۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ معصوم بچوں، خواتین اور بے گناہ شہریوں کا بہایا گیا خون ہمیشہ قابض اسرائیل اور اس کے پشت پناہوں کی درندگی اور وحشت کا زندہ ثبوت رہے گا، اور یہ خون فلسطینی عوام کے اپنی سرزمین پر حقِ حاکمیت کی سچائی کو مزید اجاگر کرتا ہے۔
وزارت داخلہ نے اپنے بیان کے اختتام پر اس عزم کا اعادہ کیا کہ اس کے تمام ادارے اپنی قومی ذمہ داری پوری کرتے رہیں گے، امن و نظام کی بحالی کے لیے سرگرم رہیں گے اور غزہ میں پائیدار استحکام کے قیام کے لیے تمام فلسطینی طبقوں کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔