قاہرہ: امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے غزہ کی پٹی کی آبادی کی ہمسایہ ممالک جبری ہجرت سے متعلق دھماکہ خیز تجویز کے بعد سے مصر غزہ کی تعمیر نو کے ایک ایسے منصوبے پر کام کر رہا ہے جس میں فلسطینیوں کے کوچ کی نوبت نہ آئے۔مصری تجویز میں غزہ کے اندر ’’محفوظ علاقوں‘‘ کا قیام شامل ہے جہاں فلسطینی عارضی طور پر رہ سکیں جبکہ اس دوران میں مصری اور بین الاقوامی ملبے کو صاف کر کے بنیادی ڈھانچے کو دوبارہ سے بحال کریں۔اسی طرح تجویز میں غزہ کی پٹی کے انتظامی امور چلانے اور تعمیر نو کی کوششوں کی نگرانی کیلئے ایک ایسی غیر جانبدار فلسطینی انتظامیہ بنانا بھی مذکورہ ہے جو حماس یا فلسطینی اتھارٹی میں سے کسی کی جانب مائل نہ ہو۔ یہ بات ان کوششوں میں شریک مصری ذمہ داران نے بتائی۔مصری تجویز میں ایک فلسطینی پولیس فورس تشکیل دینے پر بھی زور دیا گیا ہے۔ یہ فورس مرکزی طور پر فلسطینی اتھارٹی کے ان سابق پولیس اہل کاروں پر مشتمل ہو جو 2007 میں غزہ کی پٹی پر حماس کے کنٹرول کے بعد وہاں باقی رہ گئے۔ اس فورس کو مصر اور مغربی ممالک کی تربیت یافتہ فورس کی کمک فراہم کی جائے گی۔ مصری منصوبے میں غزہ کی پٹی کی تعمیر نو کو تین مراحل پر تقسیم کیا گیا ہے۔ مصری ذمہ داران کے مطابق تعمیر نو میں پانچ برس کا عرصہ درکار ہو گا اور اس دوران میں فلسطینیوں کو غزہ کی پٹی سے باہر نہیں نکالا جائے گا۔اسی طرح غزہ کے اندر تین ’’محفوظ علاقوں‘‘ کا تعین کیا گیا ہے جہاں فلسطینیوں کو ابتدائی چھ ماہ کیلئے منتقل کیا جائے گا۔ ان علاقوں کو موبائل گھروں اور پناہ گاہوں سے لیس کیا جائے گا، ساتھ ہی انسانی امداد کی ترسیل بھی جاری رہے گی۔