تل ابیب: اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاتز نے اعلان کیا ہے کہ غزہ کی پٹی کے لوگوں کا “رضاکارانہ کوچ” کیلئے ایک خصوصی ایجنسی قائم کی جائے گی۔وزارت دفاع کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ کاتز نے (پیر کے روز) غزہ کی آبادی کے رضاکارانہ کوچ کے حوالے سے ایک اجلاس منعقد کیا۔ اجلاس کے اختتام پر یہ فیصلہ کیا گیا کہ غزہ کی آبادی کے رضاکارانہ کوچ کیلئے وزارت دفاع میں ایک ڈائریکٹوریٹ بنایا جائے گا۔اس سے قبل رواں ماہ کاتز نے اسرائیلی فوج کو احکامات دیے تھے کہ وہ غزہ کی پٹی کی آبادی کی رضاکارانہ ہجرت کیلئے ایک پلان تیار کرے۔ یہ پلان غزہ کے ان لوگوں کو وسیع مواقع فراہم کرے گا جو وہاں سے کوچ کی خواہش رکھتے ہیں اور میزبان ممالک میں ضم ہونے میں مدد گار ثابت ہو گا۔ اس طرح ہتھیاروں سے پاک غزہ کی پٹی میں تعمیر نو اور ترقیاتی کام سہولت سے انجام دیا جا سکے گا۔اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے کل پیر کے روز باور کرایا ہے کہ وہ نیا غزہ قائم کرنے کے حوالے سے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے منصوبے پر کاربند رہیں گے۔ نیتن یاہو نے اس بات کا عزم بھی کیا کہ جنگ کے بعد حماس اور فلسطینی اتھارٹی دونوں میں سے کوئی بھی غزہ کی پٹی کی حکومت نہیں سنبھالے گی۔ٹرمپ کی تجویز کے مطابق جو وہ بارہا دہرا چکے ہیں، غزہ کی پٹی پر امریکہ کا “کنٹرول” ہو گا اور فلسطینیوں کو ہمسایہ ممالک بالخصوص مصر اور اردن منتقل کیا جائے گا۔ اس تجویز نے بین الاقوامی سطح پر غصے کی لہر دوڑا دی۔اسرائیل اور حماس کے درماین جنگ کے آغاز کے بعد سے غزہ کی پٹی کی مجموعی آبادی (24 لاکھ) کا بڑا حصہ کم از کم ایک بار ضرور بے گھر ہوا۔مصنوعی سیاروں سے متعلق اقوام متحدہ کے مرکز کی جانب سے کرائے گئے آخری جائزے کے مطابق یکم دسمبر 2024 تک غزہ کی پٹی کی 69 فی صد عمارتیں نقصان یا تباہی سے دوچار ہوئیں، یہ تعداد 170812 بنتی ہے۔ اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے مطابق تعمیر نو کا کام 2040 سے پہلے مکمل نہیں ہو سکے گا۔ دوسری جانب امریکی سینیٹر لینڈسے گراہم نے پیر کے روز اعلان کیا کہ وہ غزہ کی پٹی پر کنٹرول اور فلسطینیوں کی بے دخلی سے متعلق ٹرمپ کی تجویز کو مسترد کرتے ہیں۔
اس دوران ڈیموکریٹ سینیٹر رچرڈ بلومنتھل نے توقع ظاہر کی ہے کہ عرب ممالک اس تجویز کا قابل عمل متبادل پیش کریں گے۔