غزہ کیلئے مسلم ممالک متحد، امریکہ اور اسرائیل کیخلاف احتجاج

   

شیطانی ذہنیت ہی ہاسپٹلس پر حملوں کا باعث بن سکتی: عرب لیگ

غزہ سٹی:تمام مسلم ممالک غزہ کی حمایت میں متحد ہو گئے ہیں۔ غزہ پر بمباری پر مغربی کنارے سے لے کر مصر کے دارالحکومت قاہرہ تک اسرائیل اور امریکہ کے خلاف مظاہرے ہو رہے ہیں۔درحقیقت جنگ کے درمیان 17 اکتوبر کو رات گئے غزہ شہر میں اہلی عرب ہاسپٹل پر زبردست حملہ ہوا۔ اس میں 400 سے زیادہ لوگ مارے گئے۔سعودی عرب نے اس حملے کو اسرائیلی فوج کی قابل نفرت کارروائی قرار دیا ہے۔ ساتھ ہی اسرائیل کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے والے متحدہ عرب امارات اور بحرین کو بھی اس حملے پر تنقید کرنا پڑی۔مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی جنہوں نے 1980 میں اسرائیل کو ایک ملک کے طور پر تسلیم کیاکہا کہ ہاسپٹل پر حملہ کرکے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی گئی۔عرب لیگ کے سربراہ احمد ابوالغیط نے کہا ہے کہ صرف شیطانی ذہنیت ہی ہاسپٹلس پر حملوں کا باعث بن سکتی ہے۔ غزہ میں ہونے والے سانحات کو فی الفور روکا جائے۔ ساتھ ہی قطر نے غزہ کے ہاسپٹل پر حملے کو نسل کشی قرار دیا ہے۔ عراق کے دارالحکومت بغداد میں غزہ کے ہاسپٹل پر حملے کے بعد ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے۔اس کے ساتھ ہی عراقی حکومت نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے غزہ میں بے گناہوں کی ہلاکت کو فوری طور پر بند کرنے کی اپیل کی ہے۔ ایران کے سپریم لیڈر نے کہا کہ ایک بار جب مسلمان ملک اور اس کے عوام غصے کا اظہار کرنے لگیں تو پھر انہیں کوئی نہیں روک سکتا۔ غزہ کے ہاسپٹل پر حملے کے بعد ایران کے درجنوں شہروں میں مظاہرے ہوئے ہیں۔ترکی میں بھی کئی مقامات پر مظاہرے ہوئے ہیں۔ یہاں مظاہرین نے ترکی میں اسرائیلی سفارت خانے میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ تاہم پولیس نے انہیں ایسا کرنے سے روک دیا۔ ایسا ہی کچھ لبنان کے دارالحکومت بیروت میں بھی دیکھنے میں آیا۔یہاں مظاہرین نے امریکی سفارت خانے کا گھیراؤ کیا۔ پولیس نے انہیں روکا تو انہوں نے پولیس پر پتھراؤ شروع کر دیا۔ مراقش نے 2020 میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو بہتر کیا۔ اس نے بھی اسرائیل کو غزہ کے ہاسپٹل پر حملے کا قصوروار سمجھا ۔ 23 شہروں میں لوگوں نے مظاہرے کئے۔السیسی کی حکومت مصر میں کسی قسم کے مظاہرے کی اجازت نہیں دیتی۔ اسی دوران جب لوگ اسرائیل کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے تو پولیس خاموش تماشائی بنی رہی۔ تاہم مصر نے غزہ کے لوگوں کو پناہ دینے سے قطعی انکار کر دیا ہے۔