غلام نبی آزاد کا کانگریس سے استعفیٰ کیڈر کیلئے مایوسی

   


مشکل گھڑی میں ساتھ چھوڑدینا افسوسناک، بھٹی وکرمارکا اور نرنجن کا رد عمل
حیدرآباد ۔26۔اگست (سیاست نیوز) کانگریس پارٹی نے سینئر قائد غلام نبی آزاد کے استعفیٰ پر حیرت اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ سی ایل پی لیڈر بھٹی وکرمارکا نے کہا کہ ایسے وقت جبکہ ملک میں فرقہ پرست طاقتوں سے کانگریس مقابلہ کر رہی ہے ، غلام نبی آزاد کا استعفیٰ افسوسناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کئی مسائل سے دوچار ہے اور کانگریس پارٹی اپوزیشن اتحاد کی مساعی کرتے ہوئے عوام کو بی جے پی سے نجات دلانے کی کوشش کر رہی ہے ۔ دستور اور جمہوریت کے تحفظ کیلئے کانگریس کی جدوجہد میں تعاون کرنے کے بجائے پارٹی سے استعفیٰ کا اعلان کرنا ٹھیک نہیں ہے ۔ غلام نبی آزاد انتہائی تجربہ کار سیاستداں ہیں اور انہوں نے اندرا گاندھی ، راجیو گاندھی اور منموہن سنگھ وزارت میں اہم قلمدانوں کی ذمہ داری نبھائی ہے ۔ موجودہ حالات میں سینئر قائدین کی ذمہ داری تھی کہ وہ گاندھی نہرو خاندان کے ساتھ کھڑے ہوتے ۔ سونیا گاندھی خرابیٔ صحت کے باوجود بھی ملک کیلئے کام کر رہی ہے۔ راہول گاندھی اور پرینکا گاندھی بھی عوامی جدوجہد میں شامل ہوچکے ہیں۔ ایسے وقت غلام نبی آزاد کا پارٹی سے استعفیٰ افسوسناک ہے۔ بھٹی وکرمارکا نے راہول گاندھی اور پارٹی پر غلام نبی آزاد کی تنقیدوں کی مذمت کی ہے۔ اسی دوران نائب صدر پردیش کانگریس جی نرنجن نے غلام نبی آزاد کے استعفیٰ کو باعث حیرت قرار دیا اور کہا کہ مشکل کی اس گھڑی میں پارٹی کا ساتھ چھوڑ دینا کیڈر کے حوصلوں کو پست کرنے کے مترادف ہے۔ غلام نبی آزاد ایمرجنسی کے بعد کانگریس کی شکست کے وقت اندرا گاندھی کے ساتھ کھڑے رہے اور انہوں نے 1978 ء میں اندرا کانگریس کے قیام میں اہم رول ادا کیا۔ موجودہ حالات میں غلام نبی آزاد کی خدمات پارٹی کیلئے اہمیت کی حامل تھی۔ ان کا استعفیٰ جمہوریت کی بحالی کی مہم کیلئے ایک دھکا ہے۔ غلام نبی آزاد نے گاندھی خاندان سے اپنی دیرینہ وابستگی کا لحاظ نہیں رکھا۔ ر