غیر مجاز ریتی کی نکاسی پر سخت کارروائی کا انتباہ

   


لاپرواہ عہدیداران کے خلاف بھی اقدامات ، نظام آباد ضلع کلکٹر کا اجلاس سے خطاب

نظام آباد:13؍ اکتوبر ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز)ضلع کلکٹر مسٹر نارائن ریڈی نے غیر مجاز مورم کی کھدوائی ، ریتی کی نکاسی ، غیر مجاز لے آئوٹس اور پی ڈی ایس چاول کی اسمگلنگ پر سخت ترین اقدامات کرتے ہوئے ان کیخلاف پی ڈی ایکٹ درج کرنے کی ہدایت دی ۔اور بنیادی طور پر نگاہ رکھنے اور لاپرواہی برتنے والے عہدیداروں کیخلاف سخت کارروائی کرنے کا انتباہ دیا ۔ ضلع کلکٹر مسٹر نارائن ریڈی نے انٹیگریٹیڈٹ کلکٹریٹ آفس کے کانفرنس ہال میں پولیس کمشنر ناگاراجو ، اڈیشنل کلکٹرس چترا مشرا، چندر شیکھر کے ہمراہ پولیس ، ریونیو ،مائنگ ، سیول سپلائی ، میونسپل ، انفورسمنٹ ، عہدیداروں کے ساتھ منعقدہ اجلاس سے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ضلع میں غیر مجاز طوعر پر ریتی کی نکاسی اور مورم کی کھدوائی کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا انتبا ہ دیا ۔ ضلع کلکٹر نے ریت کی غیر مجاز منتقلی اور غیر مجاز مورم کی منتقلی اور ٹی ایس بی پاس محکمہ کے عہدیداروں سے تفصیلی طور پر جائزہ لیا اور بغیر اجازت مورم کی کھدوائی اور ریت کی نکاسی نہ ہونے دیا جائے ۔ اس کیلئے بنیادی طور پر نگاہ رکھنے کیلئے ریونیو اور پولیس ، مائننگ عہدیداروں کو ہدایت دی ۔اور قواعد کے مطابق ریت کی نکاسی اور کھدوائی کیلئے منظوری دیں ۔ ضلع میں پی ڈی ایس چاول کی منتقلی ، اسمگلنگ پر متعلقہ محکمہ جات کے اشترا ک سے اس پر قابو پانے کیلئے اقدامات کریں ۔ بار بار راشن چاول غیر مجاز طور پر منتقل کئے جارہے ہیں ان کیخلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے پی ڈی ایکٹ درج کرنے کی ہدایت دی ۔ ضلع میں غیر مجاز طور پر ریت کی نکاسی اور مورم کی کھدوائی ، چاول کی اسمگلنگ کے خاتمہ کیلئے جدید ٹکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے اس پر قابو پانے کیلئے اقدامات کریں اگر اس میں لاپرواہی برتنے کی صورت میں عہدیداروں کیخلاف بھی سخت کارروائی کرنے کا انتباہ دیا ۔ ضلع کلکٹر مسٹر نارائن ریڈی نے کہا کہ سرکاری اراضیات پر غیر مجاز لے آئوٹ اور غیر مجاز تعمیرات پر خاموشی اختیار نہ کریں اور اس کا جائزہ لینے کیلئے اڈیشنل کلکٹر کو زائد ذمہ داری دیتے ہوئے ہر ماہ پولیس کمشنر کے ہمراہ اس پر جائزہ لینے کا ارادہ ظاہر کیا ۔ سرکاری اراضیات کے تحفظ کیلئے فینسنگ کرنے کیلئے روپیوں کو بھی فراہم کرنے کا ارادہ ظاہر کرتے ہوئے ہر ریونیو ڈیویژن کیلئے 10 لاکھ روپئے فراہم کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ۔ اس اجلاس میں آرڈی او ، میونسپل کے عہدیدار بھی موجود تھے۔