غیر مجاز عمارتوں کو باقاعدہ بنانے بی آر ایس اسکیم کی درخواستوں کو خطرہ

   

ہائیکورٹ کے احکامات کے بعد جی ایچ ایم سی درخواستوں کی یکسوئی پر خاموش

حیدرآباد۔4جولائی (سیاست نیوز) شہر حیدرآباد کے حدود میں بی آر ایس کے لئے داخل کی گئی درخواستوں کی یکسوئی کے معاملہ میں مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے اختیار کردہ موقف اور تلنگانہ ہائی کورٹ کے احکامات کو دیکھتے ہوئے کہا جا رہاہے کہ غیر مجاز عمارتوں کی تعمیر کے بعد جو عمارتوں کو باقاعدہ بنانے کی درخواستیں داخل کی گئی ہیں ان درخواستوں کو مسترد کردیا جائے گا!حکومت تلنگانہ نے دونو ںشہروں حیدرآبادو سکندرآباد میں غیر مجاز تعمیر کی گئی عمارتوں کو باقاعدہ بنانے کی جو اسکیم کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا جو عمارتیں تعمیر کی جاچکی ہیں ان عمارتوں کو باقاعدہ بنانے کے سلسلہ میں درخواستوں کے ادخال کو یقینی بنایا جائے تاکہ جی ایچ ایم سی ان عمارتوں اور درخواستوں کا جائزہ لینے کے بعد انہیں باقاعدہ بنانے کے اقدامات کرسکے لیکن طویل مدت گذر جانے کے باوجود ان درخواستوں کی یکسوئی عمل میں نہیں لائی گئی بلکہ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے انتخابات سے عین قبل جی ایچ ایم سی نے بی آر ایس کے تحت داخل کی گئی درخواستوں کی یکسوئی کے سلسلہ میں اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے تنقیح کے عمل کا آغاز کیا تھا اور تنقیح کے عمل کے آغاز کے ساتھ ہی یہ توقع کی جا رہی تھی کہ انتخابات سے قبل یا انتخابات کے فوری بعد مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے بی آر ایس کے تحت داخل کی گئی درخواستوں کی یکسوئی یقینی بنائی جائے گی لیکن ایسا ممکن نہیں ہوسکا۔ دونوں شہروں میں غیر مجاز عمارتوں کی تعمیر اور بغیر اجازت تعمیر کی گئی عمارتوں کو باقاعدہ بنانے کے سلسلہ میں تلنگانہ ہائی کورٹ کی جانب سے روک لگائے جانے کے بعد ہائی کورٹ نے مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے عہدیداروں کو اس بات کی ہدایت جاری کی تھی کہ وہ بی آر ایس کے تحت داخل کی گئی درخواستوں کے متعلق اپنے فیصلہ سے نومبر 2020 تک درخواست گذاروں کو واقف کروادیں لیکن مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے اس مسئلہ پر اب تک کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے اور کہا جا رہاہے کہ جن تعمیرات کے متعلق جی ایچ ایم سی کو شکایات موصول ہوئی ہیں اور ان تعمیرات کے ذمہ داروں کی جانب سے بی آر ایس کے تحت درخواستیں داخل کی جاچکی ہیں ان کی درخواستوں کو شکایت کنندگان کی پیروی پر نوٹس جاری کرتے ہوئے انہیں منہدم کرنے کا انتباہ دیا جا رہاہے اور کہاجا رہاہے کہ ان کی جانب سے بی آر ایس کے لئے داخل کردہ درخواست کو مسترد کیا جاچکا ہے۔